کھٹمنڈو(شہرنامہ نیوز) نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 626 ہو گئی، 2 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، سرچ آپریشن جاری ہے۔ نیپال نے سیلاب کے بعد خصوصی غیرملکی امداد طلب کرلی، سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے ماہرین درکار ہیں، لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ سٹوریج کی بھی ضرورت ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق تباہ شدہ پلوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی متاثر ہوئی، لاشیں سیلابی ریلوں میں بہہ کر دور دراز علاقوں تک پہنچ گئی ہیں۔حکام کے مطابق تباہ شدہ شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے بیرونی تعاون درکار ہوگا، امدادی کارروائیوں کے لیے 15,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ نیپال میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سامنے آ رہا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈ کے باعث بننے والی جھیل پر چینی ماہرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پانی بہنے کے خطرے کے باعث صورتحال اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق تلاش اور لاشوں کی بازیابی کا عمل تیز کرنے کے لیے مزید 1,200 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ نیپال نے ابتدا میں کہا تھا کہ اسے غیرملکی ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں اور ملکی سکیورٹی ادارے خود امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، تاہم ان ممالک کے دباؤ کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی جن کے شہری سیلاب کے بعد تاحال لاپتا ہیں۔ جنوبی کوریا نے نیپال میں ایک رسپانس ٹیم بھیجنے کے ساتھ مزید ایک ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق بھارت، چین، امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے نیپالی حکومت سے اپنے سرچ اینڈ ریسکیو دستے بھیجنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔
نیپال میں سیلاب: سرچ آپریشن جاری،ہلاکتوں کی تعداد 626 ہوگئی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







