لاہور(شہرنامہ نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا گورنر ہاؤس لاہور میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں جماعتوں نے اتحادی حکومت کو مستحکم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے واضح کیا کہ ملک کے استحکام کے لیے یہ اتحاد عارضی نہیں بلکہ دیرپا ہے۔ ترجمان گورنر پنجاب کے مطابق پیپلزپارٹی کی طرف سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ، قمرالزمان کائرہ اور علی قاسم گیلانی شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ خان، سینیٹر / سینئر ایڈوائزر چیف منسٹر پنجاب انوشا رحمان، خواجہ سعد رفیق اور سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اجلاس میں شریک ہوئیں۔اس موقع پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار ساہو بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران کوآرڈینیشن کمیٹی کے ارکان نے گزشتہ میٹنگ میں طے پانے والے متفقہ فیصلوں پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں جماعتوں نے باہمی مشاورت سے کوآرڈینیشن کمیٹی کا آئندہ اجلاس جلد بلانے پر بھی اتفاق کیا۔ دریں اثنا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی پنجاب کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، دونوں جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور حسن مرتضیٰ نے عوامی ایشوز پر ن لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا۔دوران اجلاس جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضی اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے درمیان تلخی بھی ہوئی، بلدیاتی الیکشن نہ کروانے اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر پیپلز پارٹی قیادت نے شدید ردعمل کا اطہار کیا۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور کسانوں کو درپیش مسائل پر بھی پیپلز پارٹی نے نائب وزیراعظم سے شدید احتجاج کیا۔
ن لیگ، پیپلزپارٹی کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس، اتحاد مستحکم رکھنے کا عزم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







