فیک نیوز اور ڈیپ فیک سے نمٹنے کے لیے قومی سائبر سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات موجود دور کا بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے نیشنل سائبر سیکورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز دے دی.پی ٹی اے کے زیر اہتمام سائبر سیکورٹی آگاہی ہفتہ 2026ء کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے، ڈیجیٹل خواندگی کا نصاب ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوتا رہنا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دینا ہوگی، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے اب تک صرف ٹک ٹاک نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ لازمی قرار دی ہے، صارف کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جو مواد دیکھ رہا ہے وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں ڈیجیٹل خواندگی سیل قائم ہونا چاہئے، سرکاری اداروں کے افسران کی ڈیجیٹل خواندگی کے حوالے سے تربیت کرنا ہوگی، صرف ایک ہفتے کی آگاہی مہم کافی نہیں، سائبر سیکورٹی اور سوشل میڈیا کے حوالے سے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے آغاز اور ڈیجیٹل منظر نامے میں تیزی سے تبدیلیوں کے باعث ریگولیٹری فریم ورک کا قیام چیلنج بن گیا ہے، ڈیجیٹل خواندگی کے حوالے سے ملک میں کوئی یکساں نصاب موجود نہیں، بچوں کو سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال اور غیر محفوظ استعمال سے بچنے کے طریقے سکھانا ہوں گے، ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آگاہی کے لئے یکساں پالیسی کی بجائے مختلف طبقات کے لئے مخصوص نوعیت کے پیغامات کی ضرورت ہے، مائیکرو انفلوئنسرز کے ذریعے مخصوص طبقوں تک موثر انداز میں آگاہی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے، ایک کلک بھی شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور ان کے ڈیٹا تک رسائی کا باعث بن سکتا ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں