تہران،واشگٹن(شہرنامہ نیوز)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گےایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت فوجی کارروائی کی اپنے روایتی انداز میں دھمکی دی کہ ایران آبنائے ہرمز پر حملہ کرنے سے باز رہے۔اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی ہتھیار سے حملہ کرے گا تو امریکا ایران کی جن تنصیبات کو نشانہ بنائے گا اُن میں تہران کے قریب موجود پل اور بجلی گھر بھی شامل ہوں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے، تجارتی جہازوں پر حملے کرنے یا سمندری گزرگاہ کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی تو امریکا فوری اور بھرپور فوجی جواب دے گا۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی اپنے ایک اور بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکا جلد ہی ایران کے جوہری مرکز نطنز کے اُس پہاڑ کو نشانہ بنائے گا جہاں مبینہ طور پر ایران نے اپنے جدید یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز منتقل کیے ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھائیں گے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے تاہم ایران نے اس آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے جس سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
حملے جاری،امریکہ اور ایران کی ایکدوسرے کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل











