یہ اسلام آباد ہے

تحریر: راجہ جاوید اختر

کہنے کو یہ پاکستان کا وفاقی دارالحکومت ہے، ملک کا چہرہ، اقتدار کا مرکز اور ترقی و خوشحالی کی علامت۔ یہاں پارلیمنٹ کی عظیم الشان عمارتیں ہیں، ایوانِ صدر ہے، وزیراعظم ہاؤس ہے، سفارت خانے ہیں، جدید شاہراہیں اور بلند و بالا عمارتیں ہیں۔ مگر ذرا ان چمکتی سڑکوں سے نکل کر عام شہری کی زندگی میں جھانکیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلام آباد وہی مثالی شہر ہے جس کا خواب اس کے بانیوں نے دیکھا تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ آج اسلام آباد کا عام شہری بنیادی سہولیات کے لیے بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔ گیس کی بندش معمول بن چکی ہے۔ دن میں کئی کئی بار چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ بجلی کی آنکھ مچولی الگ جاری رہتی ہے۔ پانی کا بحران اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ نہ صرف دیہی علاقے بلکہ شہری آبادیاں بھی اس سے متاثر ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے گردونواح کے متعدد دیہات پینے کے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں، مگر متعلقہ اداروں کی ترجیحات میں یہ مسئلہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔دوسری جانب تجاوزات کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ قانون کی عملداری ضروری سہی، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا انسانی پہلو کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے؟ کئی دیہات اور آبادیاں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور برسوں کی جمع پونجی چند گھنٹوں میں زمین بوس ہو گئی۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مسمار کرنا نہیں بلکہ متبادل اور منصفانہ حل فراہم کرنا بھی ہے۔
پھر بات آتی ہے انٹرنیٹ کی۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور تیز رفتار رابطوں کے دور میں داخل ہو چکی ہے، مگر اسلام آباد میں کبھی انٹرنیٹ بند، کبھی سست اور کبھی مکمل غائب ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کے جدید ترین شہر میں نہیں بلکہ کسی دور دراز علاقے میں رہ رہے ہوں۔ کاروبار، تعلیم، صحافت اور روزگار سب متاثر ہوتے ہیں، مگر اس مسئلے کا مستقل حل آج تک سامنے نہیں آ سکا۔
اسلام آباد کی ایک اور شناخت اب ناکے اور سڑکوں کی بندش بنتی جا رہی ہے۔ کبھی یہ ناکہ، کبھی وہ ناکہ، کبھی یہ روڈ بند اور کبھی وہ شاہراہ سیل۔ شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔ مریض ہسپتال پہنچنے کے لیے پریشان، ملازمین دفاتر میں تاخیر کا شکار اور طلبہ امتحانی مراکز تک رسائی کے لیے سرگرداں نظر آتے ہیں۔ سکیورٹی اپنی جگہ اہم ہے، مگر شہری زندگی کو مفلوج کر دینا کسی صورت کامیاب حکمت عملی نہیں کہلا سکتا۔
مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ پولیس ناکوں کا دائرہ اب اسلام آباد کے دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ کرپا، سہالہ، ہمک، پنڈ بیگوال، ترلائی کلاں، کورال، غوری ٹاؤن اور دیگر علاقوں کے مکین اکثر شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں روزانہ طویل چیکنگ اور غیر ضروری پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ عام شہری کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ جرائم کی وارداتیں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ اگر نتیجہ وہی ہے تو پھر طریقۂ کار پر نظرثانی کیوں نہیں کی جاتی؟
مہنگائی نے بھی اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کرایے، اشیائے خورونوش، یوٹیلیٹی بلز اور روزمرہ اخراجات دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ متوسط طبقہ پس رہا ہے، غریب آدمی زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے اور نوجوان روزگار کے مواقع تلاش کرتے کرتے مایوسی کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں۔
ادھر سیاسی نعروں، دعوؤں، پریس کانفرنسوں اور اقتدار کے ایوانوں میں کامیابیوں کے چرچے کم نہیں۔ “آوے ہی آوے” اور “جاوے ہی جاوے” جیسے فلک شگاف نعروں کی گونج تو سنائی دیتی ہے، مگر عام شہری کی آہ و فغاں سننے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف حکمران ترقی کے دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف شہری پانی کی بوند، گیس کے شعلے، بجلی کی روشنی اور کھلی سڑک کے لیے ترستے دکھائی دیتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ اسلام آباد خوبصورت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ شہر اپنے باسیوں کے لیے قابلِ رہائش بھی ہے؟ کیا ترقی صرف عمارتوں، انڈر پاسز اور سرکاری منصوبوں کا نام ہے یا پھر شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی اس کا حصہ ہے

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں