امام الحق اور رضوان سے 2 گھنٹے تفتیش،موبائل فرانزک کا فیصلہ

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) گزشتہ روز قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پیش ہوگئے تھے، جہاں انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس اور موبائل فون سے حاصل ہونے والی معلومات سے متعلق دونوں کرکٹرز سے دو گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کے فون ان لاک کرنے اورفرانزک کرانے کا تعین کیا جارہا ہے۔ فرانزک کن چیزوں پر ہوگا اسکا تعین کیا جارہا ہے، کھلاڑیوں کے موبائل فون فرانزک میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔امام الحق اور محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو جلد تحریری جواب جمع کرانے کی یقین دہائی کرائی ہے، موبائل فرانزک کے بعد بینک اکاؤںٹ کی جانچ پڑتال یا دیگر امور نمٹانے کا فیصلہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں قیام کے دوران ان کے رابطوں اور ملاقاتوں پر بھی سوالات کیے جبکہ موبائل فونز پر گفتگو اور ڈریسنگ روم کی حساس معلومات لیک ہونے پر بھی پوچھ گچھ کی گئی۔خیال رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق ان کرکٹرز میں شامل ہیں جنہیں لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔ پی سی بی نے کرکٹرز کے موبائل فون متعلقہ اداروں کو بھیج دیے تھے، این سی سی آئی اے کھلاڑیوں کے موبائل فون سے حاصل معلومات کی بنیاد پر تفتیش کر رہا ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں