یمن میں شدید لڑائی، 30 حوثی ہلاک، 60 سے زائد زخمی

ریاض(شہرنامہ نیوز)یمن میں سعودی اتحادی یمنی فورسز نے حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں تیز کردیں، ضلع الوزیعہ میں شدید لڑائی کے دوران 30 حوثی جنگجو ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔یمنی فوج کے مطابق جنگی طیاروں نے حوثیوں کی گاڑیوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ حوثیوں کی رسد کے راستوں اور تعیناتی کے مقامات پر بھی حملے کیے گئے۔یمنی فوج کا کہنا ہے کہ تعز میں حوثیوں کے حملے پسپا کرتے ہوئے ان کے ٹھکانوں اور کمک کو بھی نشانہ بنایا گیا،یمنی فوج نے متعدد صوبوں میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 68 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔یمنی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں جنوب مغربی علاقوں میں 23 حکومتی فوجی مارے گئے، جبکہ حوثی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں ان کے 40 جنگجو ہلاک ہوئے، یہ اعداد دونوں فریقوں کے دعووں پر مبنی ہیں۔سعودی حکام کے مطابق طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، دوسری جانب حوثیوں نے سعودی ایف 15 طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کا اثر عالمی توانائی اور بحری تجارت پر بھی پڑ رہا ہے، آبنائے ہرمز میں پہلے ہی بحری آمدورفت متاثر ہے، جبکہ حوثیوں کے زیر اثر باب المندب میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے سے خلیجی تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کے متبادل راستے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں