کراچی(شہرنامہ نیوز)پیٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کے دھرنے دوسرے روز بھی جاری ہیں، حافظ نعیم الرحمان نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنوں میں کارکنان دوسرے روز بھی موجود ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم نے آج لاہور میں دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنے پرامن طریقے سے جاری رہیں گے، شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ ان دھرنوں میں آئیں اور بتائیں کہ یہ لیوی بھتہ قبول نہیں ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی 25 کروڑ لوگوں کا مقدمہ لڑرہی ہے، جنگ کے دوران بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں، یہ کہتے ہیں آئی ایم ایف کی وجہ سے قیمتیں بڑھائیں، حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرول 225 روپے فی لیٹر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بریفنگ کے لیے کمیٹی بنائی ہے، ہم کمیٹی کو دعوت دیتے ہیں وہ لاہور میں آئیں ہم میزبانی کریں گے، یہ دھرنا کسی پارٹی یا کسی کی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے ہے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک کارکن چیئرنگ کراس پر موجود رہیں گے۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کے ذرائع کے مطابق دھرنے میں مرحلہ وار پنجاب بھر سے کارکنوں کی شرکت کا سلسلہ جاری رہے گا اور صوبائی عہدیداران کو مختلف دنوں کے حساب سے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ دھرنے کے مقام پر شرکا کے لیے خیمے بھی نصب کردیئے گئے ہیں، منتظمین کا کہنا ہے کہ آج دوپہر چار بجے کے بعد دھرنے میں شہریوں کی آمد میں اضافہ متوقع ہے۔ دھرنے کے باعث مال روڈ پر ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔چیئرنگ کراس، فیصل چوک سے ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کردیا گیا ہے۔ صرف فیصل چوک ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ فیصل چوک سے ریگل چوک تک ٹریفک کو سروس روڈ پر منتقل کیا گیا ہے۔دوسری جانب کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے میں آج سہ پہر 3 بجے خواتین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے، مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں سے ہٹانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
دھرنےکا دوسرا روز، حافظ نعیم کا مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







