سانحہ پمز کی مکمل انکوائری رپورٹ جاری، آتشزدگی کی ممکنہ وجہ برقی خرابی قرار

اسلام آباد(شہرنامہ نیوز)سانحہ پمز پر وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری کردی گئی،رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی خرابی تھی،شواہد اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بےیار ومددگار چھوڑ دیا۔اسلام آباد میں پمز کے ای سی ایچ نرسری میں 26 اگست کو آتشزدگی کے واقعے کی وزیراعظم کی ہدایت پر قائم انکوائری کمیٹی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ کےمطابق پمزنرسری میں آگ لگنےسے 14 نومولودبچےجاں بحق ہوئے ایک نومولود محفوظ رہا،کمیٹی نےآتشزدگی کی وجوہات،سنگین نتائج اورواقعے کوتباہ کن بنانےوالےعوامل کا تفصیلی جائزہ لیا۔رپورٹ کےمطابق انکوائری کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے، تحقیقات کے دوران فرانزک شواہد،سی سی ٹی وی ریکارڈ،کال ریکارڈز، انجینئرنگ ومینٹیننس دستاویزات کا جائزہ لیاگیا،طبی وحادثاتی ریکارڈ،ڈیوٹی ریکارڈ اورگواہوں کے بیانات، سابقہ تحقیقات سے مدد لی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایاگیاکہ سی سی ٹی وی ریکارڈسےپمز نرسری میں غیرمعمولی ہنگامی صورتحال پیدا ہونےکی تصدیق ہوئی،تقریباً 6 بجکر 38 منٹ 15سیکنڈپرآگ واضح طورپربھڑک چکی تھی،آتشزدگی کے دوران فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی۔رپورٹ میں کہاگیا کہ شواہد اس الزام کی تردید کرتےہیں کہ فرنٹ لائن عملےنے بچوں کو بےیارومددگار چھوڑ دیا، سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سےممکنہ کارروائی کی، آگ لگنےکا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اےسی یونٹ نمبر1 کے قریب موجود اے سی یونٹ 2 کی بجلی کی کیبل تھی، نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد یہی ثابت ہوتا ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کےمطابق کسی اقدام کا محض منظوریا زیرعمل ہونا اس کے نفاذ کا ثبوت نہیں،حفاظتی اقدام اسی وقت نافذ تصورہوگاجب خطرہ عملاً ختم ہو،آزادانہ طور پرتصدیق بھی ہو، مقامی برقی خرابی سےآگ لگنےکا امکان قوی ہے،آتش گیرمواداورآکسیجن نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا،نرسری میں گنجائش سےزیادہ بچوں،محدودانخلاکی صلاحیت نےامدادی کارروائیوں کومتاثرکیا،نومولود بچوں کیلئے باقاعدہ ہنگامی نظام کی عدم موجودگی نےریسکیو کومحدودکیا،ادارہ جاتی سطح پر ہنگامی کارروائی میں تاخیر نے ردعمل کو مزید کمزور کیا۔تحقیقاتی رپورٹ کےمطابق چارج نرس نسرین اختر،اسٹاف نرس رضیہ نورین نےبچوں کو بچانے کیلئے فوری کارروائی کی،سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم دونوں کےساتھ اس کارروائی میں حصہ لیا،نرس رضیہ نے ایک نومولود بچےکو بچایا،دوبارہ نرسری میں داخل ہونےکی کوشش کی،ڈاکٹرمحمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پرموجود رہے۔کمیٹی کے مطابق نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا۔ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود بچے زیرعلاج تھے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں