حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن، کشمیر ہماری شہ رگ ہے،وزیر اعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

نیویارک(شہرنامہ نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز ہے۔وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔وزیر اعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، وزیراعظم نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ‘شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدّس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزی اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں