شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ، اسٹیٹ بینک کا نیا فیصلہ

کراچی(شہرنامہ نیوز)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود ساڑھے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردی۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ سٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کو شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی تھی۔گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق ایران امریکا جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل رہنے سے مہنگائی پر دباؤ بڑھا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 اراکین نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا۔گورنر نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث اس ہدف کے حصول میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ بنیادی مہنگائی میں بہتری آئی ہے، لیکن مستقبل میں اس کے ثانوی اثرات سامنے آنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اجناس اور تیل کی قیمتوں کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب درآمدی بل 71 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔گورنر کے مطابق زرعی شعبے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، پہلی سہ ماہی میں گنے، چاول اور مکئی کی پیداوار بڑھی، تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ توقع ہے کہ رواں مالی سال زرعی شعبہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں