اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت جاری ہے۔ کمیٹی رکن آغا رفیع اللہ نے اسلام آباد میں متعدد آبادیوں پر سی ڈی اے ایکشن کا معاملہ اٹھایا، آغا رفیع اللہ نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے ان آبادیوں کو آباد کروایا، ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، بتایا جائے۔ زیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ بل 2025 پر بحث کا آغاز ہوا، آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ بتایا جائے حکومت مقامی حکومتوں کا الیکشن کروانا چاہتی ہے یا نہیں، اگر آپ نے صرف الیکشن کمیشن کو ماموں بنانا ہے تو ہم اس میں شامل نہیں، پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں، لیکن ایک اسلام آباد کا علاقہ سنبھل نہیں رہا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد ایک صوبہ ہے، اس کی الگ اسمبلی ہونی چاہیے، راجہ خرم نواز نے کہاکہ اسلام آباد کی حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں، یو سیز بن گئی ہیں۔رکن کمیٹی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آپ نے مقامی حکومتوں کا الیکشن نہ اسلام آباد میں کروانا ہے نہ پنجاب میں، ۔ یہ بتائیں اسلام آباد اگر صوبہ بن جاتا ہے تو اس کے پاس اختیارات کیا ہوں گے،۔ یہ آرڈیننس دو دن کے بعد ختم ہوجائے گا، آپ نے الیکشن نہیں کروانے، ہم اس بل پر آپ کے ساتھ نہیں ہیں، اسلام آباد میں زمینوں پر قبضے اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں۔ لال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی بات ہوگی تو پرفارمنس پر ہوگی، یہاں اسلام آباد میں تھانے نہیں بکتے، زمینوں کی چائنہ کٹنگ نہیں ہوتی، اسلام آباد کی پرفارمنس کا موازنہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے کروانی ہے تو ہم حاضر ہیں۔کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ بل پر پیپلزپارٹی کے اراکین آغا رفیع اللہ اور عبدالقادر پٹیل نے مخالفت کی۔ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 پر پیپلزپارٹی نے اختلافی نوٹ جمع کرادیا۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ بار بار قانون سازی کا مقصد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التوا لگتا ہے۔حکومت کی جانب سے مسلسل ترمیمی بلز اور آرڈیننس لانا انتخابی عمل میں رکاوٹ ہے۔ الیکشن کمیشن جب بھی الیکشن کی طرف بڑھتا ہے، ترمیمی بل لے آیا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی اور مالی اختیارات کی منتقلی لازمی ہے۔ اسلام آباد کے شہری کئی سالوں سے منتخب بلدیاتی نمائندوں سے محروم ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نمائندوں کی غیر موجودگی جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔ بلدیاتی نظام میں بار بار کی تبدیلیاں انتخابی التوا کا جواز نہیں بن سکتیں۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ بل کا جائزہ لیا جائے کہ آیا یہ الیکشن کروانے میں مددگار ہے یا نیا قانونی روڑا۔ حکومت کو بلدیاتی انتخابات روکنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو سہولت دینی چاہیے۔بلدیاتی ترمیم کا مقصد الیکشن کروانا ہونا چاہیے، الیکشن کا التوا نہیں۔ اختلافی نوٹ پر پیپلزپارٹی کے سید رفیع اللہ، جمال رئیسانی، نبیل گبول اور قادر پٹیل کے دستخط موجود ہیں۔بلوچستان سے رکن اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت کی۔
قومی اسمبلی کی داخلہ کمیٹی نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرلیا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







