230 فٹ چوڑا اور 460 فٹ لمبا جزیرہ، اچانک جھیل سے غائب

کینیڈا(شہرنامہ نیوز)کینیڈا کی ایک جھیل میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ غائب ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے ایک دور افتادہ آبی ذخیرے میں پراسرار طور پر ایک بہت بڑا جزیرہ نمودار ہوا جو درختوں سے ڈھکا ہوا تھا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ خشکی کا یہ عجیب و غریب تیرتا ہوا ٹکڑا برٹش کولمبیا کے ‘ولسٹن ریزروائر’ میں اس ماہ کے اوائل میں دیکھا گیا تھا جو محض چند ہفتوں بعد ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا اس حوالے سے مقامی افراد نے بتایا کہ اس جزیرے کی تصاویر اور ویڈیو ایک کشتی بان نے بنائی تھیں جو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ راکی ​​ایوری نے مزید بتایا کہ یہ ایک حیرت انگیز نظارہ تھا اور انہوں نے ایسا نظارہ پچھلے 40 سالوں میں نہیں دیکھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جزیرے سے متعلق خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بنی ویڈیو ہو لیکن 21 جولائی کی سیٹلائٹ تصاویر نے بالآخر اس بات کی تصدیق کی کہ یہ جزیرہ حقیقی تھا اور ’ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم‘ سے تقریباً 60 میل مغرب میں ’فنلے بے‘ (Finlay Bay) میں تیر رہا تھا۔اس جزیرے کی چوڑائی تقریباً 230 فٹ اور لمبائی 460 فٹ بتائی گئی تھی، اور اس کا کل رقبہ تقریباً 1 لاکھ 5 ہزار مربع فٹ تھا، جو تقریباً 2 فٹبال میدانوں کے رقبے کے برابر ہے، تاہم 5 اگست تک زمین کا یہ ٹکڑا سیٹلائٹ تصاویر سے غائب ہو چکا تھا۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں