کوئٹہ، کوئلے کی کان میں دھماکا، 26 کان کن جاں بحق،لاشیں نکال لی گئیں

کوئٹہ(شہرنامہ نیوز)اسپن کاریز کے قریب دھماکے کے بعد سورینج کوئلے کی کان منہدم ہونے کے حادثے میں 26 کان کن جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق اسپن کاریز میں واقعہ پی ایم ڈی سی آفس کے قریب کوئلے کی کان زور دار دھماکے کے بعد منہدم ہوگئی، جس کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر رضاکار امدادی کارروائیوں کیلیے موقع پر پہنچے۔پی ڈی ایم اے نے رضارکار، ایمبولینسز کو جائے وقوعہ بھیج کر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ابتدا میں 25 افراد کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔صوبائی وزیر معدنیات شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 12 کان کنوں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ مزید مزدوروں کی تلاش کیلیے ریسکیو کام جاری ہے، ممکنہ طور پر ملبے تلے 24 افراد مزید دبے ہوئے ہیں۔صوبائی وزیر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ دشوار حالات کے باوجودریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے، ہم جاں بحق کان کنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ جبکہ زخمیوں کو حکومت کی طرف سے تین لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔وفاقی وزیر امیر مقام نے سورینج کوئلہ کان حادثہ کے بعد گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے ریسکیو آپریشن پر گفتگو کی جبکہ حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے متاثرہ کان کنوں اور انکے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے وفاقی وزیر کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کان کنوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس حوالے سے صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود آپریشن مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں، متاثرہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افسوسناک واقعہ میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا، حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔قبل ازیں کوئلہ کان کے مالک نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت 42 مزدور تھے، کان میں پھنسے تمام مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ سے ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں