پاسداران انقلاب کا اردن میں متعدد امریکی ایف-35 تباہ کرنے کا دعویٰ،امریکہ کی تردید

تہران(شہرنامی نیوز)ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی بیس پر کیے گئے حملے میں متعدد ایف-35 جنگی طیارے تباہ ہوئے اور کویت میں امریکی فوجی کاپٹرز بھی نشانہ بنے ہیں۔ایرانی خبرایجنسی فارس نے رپورٹ میں بتایا کہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے ال ازرق ایئربیس پر حملے میں 3 ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیارے تباہ کردیے گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب کے ایرواسپیس فورس کے فائٹرز نے ال ارزق ایئربیس پر ڈیولپمنٹ ریمپ اور مینٹیننس ہینگر پر موجود امریکی ایف -35 جنگی طیاروں پر حملہ کیا اور کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں3 ایف-35 جنگی طیارے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے میں بیس پر موجود دیگر تین ایف-35 جنگی طیاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔پاسداران انقلاب نے ایک اور بیان میں دعویٰ کیا کہ کویت کے علی ال سلیم ایئربیس پر حملے میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ آج صبح آپریشن نصر 2 کے تسلسل اور جارح امریکی حملہ آور کو سبق سکھانے کے لیے امریکی علی ال سلیم ایئربیس پر حملہ کیا گیا، جس میں دو ڈرون ہینگرز اور ایک ایئرکرافٹ فیول ٹینک پر آگ لگی اور تباہ ہوگیا۔بیان میں کہا گیا کہ علی ال سلیم ایئربیس پر کیے گئے حملے میں امریکی فوج کے ہیلی کاپٹرز تباہ ہوئے اور مزید نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے اردن کے ال ازرق ایئربیس پر 3 ایف-35 جنگی طیارے تباہ کرنے کے دعوؤں کی تردید کردی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بیان میں کہا کہ ایران کے حالیہ حملوں کی کوششوں میں کوئی امریکی جنگی طیارہ تباہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل اور ڈرونز فضا میں ہی ناکارہ بنادیے گئے یا ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوگئے تھے۔سینٹکام نے آبنائے ہرمز سے امریکی ناکابندی کے دوران ایران کی کارروائی کے نتیجے میں کمرشل آئل ٹینکر نورا کو نقصان پہنچنے کی خبر بھی مسترد کردی۔امریکی فوج نے کہا کہ ناکابندی کو مکمل طور پر نافذ رکھنے کے لیے امریکا کے 20 سے زائد جنگی جہاز، سیکڑوں طیارے اور ہزاروں فوجی بدستور مستعد ہیں اور ناکابندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں