نیپال میں سیلاب کی نئی وارننگ، 469 افراد ہلاک، سینکڑوں لاپتا

کھٹمنڈو(شہرنامہ نیوز) نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ نیپالی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔اس سے قبل نیپالی حکام نے بتایا تھا کہ 900 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 500 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ادھر چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی ہے کہ حکام نے تبت میں پھنسے 555 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔سیلاب کے بعد تبت سے معلومات بہت محدود مقدار میں سامنے آئی ہیں، جس کی بڑی وجہ چین کے سخت میڈیا ضوابط ہیں، یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں یا ان سے الگ ہیں۔ نیپال نے آج 28 اگست 2026 کو ایک نئی سیلابی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک 26 اگست کے تباہ کن سیلاب سے ابھی تک سنبھلا نہیں ہے. یڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال-چین سرحد کے قریب تبت کی جانب لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی ایک بڑی جھیل میں پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھیل سے 2.5 ملین مکعب میٹر سے زیادہ پانی وابستہ ہے اور اس کے اوور فلو ہونے سے دریاؤں میں دوبارہ شدید سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔آج مزید تشویش اس وقت پیدا ہوئی جب تبت کی جانب ایک ڈیم/پانی کا بند دوبارہ ٹوٹنے کی اطلاع ملی، جس کے بعد نیپال پولیس نے دریائے بھوٹے کوشی کے ساتھ ساتھ تریشولی اور نارایانی دریاؤں کے علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا۔ اسووا اور نوواکوت سمیت متاثرہ علاقوں میں لوگوں اور امدادی کارکنوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 26 اگست کے سیلاب میں نیپال میں کم از کم 470 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 1,400 سے زیادہ افراد لاپتا ہیں۔ نئے سیلاب کے خطرے نے جاری امدادی اور تلاش کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ چین کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جھیل میں مزید پانی جمع ہونے سے اس کے پھٹنے کا خطرہ برقرار ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں