سابق وزیراعظم سڑکوں پر،سوال ریاست کے دروازے پر

تحریر : راجہ جاوید اختر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اختلافات، مقدمات اور سیاسی کشمکش اپنی جگہ، مگر ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا ایک سابق وزیرِ اعظم، جو ملک کا منتخب سربراہِ حکومت رہ چکا ہو، علاج کی غرض سے آدھی رات کو سڑکوں پر گھمایا جائے اور پھر رات کے پچھلے پہر ہسپتال منتقل کیا جائے؟ کیا یہی وہ پروٹوکول ہے جو ریاست اپنے سابق وزرائے اعظم کو دیتی ہے؟
حالیہ دنوں عمران خان کو رات کی تاریکی میں سخت سکیورٹی حصار میں اسلام آباد منتقل کیا گیا، سڑکیں بند کی گئیں، سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے اور طبی معائنے کے بعد چند گھنٹوں میں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تمام کارروائی رات گئے انجام دی گئی اور اس کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔
اصل سوال عمران خان کی سیاست یا ان کے مقدمات کا نہیں، بلکہ ریاستی رویے کا ہے۔ اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کی صحت کے معاملے پر بھی سیاسی مصلحتیں، انتظامی پیچیدگیاں اور سکیورٹی خدشات انسانی ضرورتوں پر غالب آ جائیں تو پھر عام شہری کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟
جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کے بنیادی حقوق کے احترام کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کی مہذب ریاستوں میں سابق سربراہانِ حکومت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کا احتساب بھی کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی عزتِ نفس اور بنیادی انسانی حقوق کو مجروح نہیں کیا جاتا۔ سیاسی انتقام اور ریاستی وقار ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب اقتدار میں ہوں تو پروٹوکول کے قافلے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، لیکن اقتدار سے باہر ہوتے ہی ریاست کا رویہ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی طرزِ عمل ہمارے سیاسی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ شخصیات بدلتی رہتی ہیں، مگر ریاستی روایات مستقل رہتی ہیں۔ اگر آج ایک سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
ریاستوں کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کتنا سخت سلوک کرتی ہیں، بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اختلاف رکھنے والوں کے حقوق کا کتنا احترام کرتی ہیں۔ عمران خان کے حامی ہوں یا مخالف، ہر باشعور پاکستانی کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ کیا ایک سابق وزیرِ اعظم کے علاج اور صحت کے معاملے میں یہی رویہ قومی وقار کے مطابق ہے؟
سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر یہ معاملہ ریاستی سنجیدگی، انسانی احترام اور جمہوری اقدار کا ہے۔ کیونکہ جب ادارے شخصیات سے نہیں بلکہ اصولوں سے چلتے ہیں تو قومیں مضبوط بنتی ہیں، اور جب اصول کمزور پڑ جائیں تو اقتدار کے ایوان بھی عوام کے اعتماد سے محروم ہو جاتے ہیں۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں