پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں خیبر پختونخوا کی قیادت ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ عمران خان نے صوبے کی قیادت کے لیے سہیل آفریدی کو نامزد کیا، جن کے حامیوں کے مطابق وہ ایک نوجوان اور گراس روٹ سطح سے ابھرنے والے سیاسی رہنما ہیں۔
سہیل آفریدی طلبہ سیاست سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کر چکے ہیں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف عوامی اور تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے عوامی مسائل کو قریب سے سمجھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ، شفاف طرزِ حکمرانی، احتساب اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنا چاہتے ہیں۔
حامیوں کے مطابق، خیبر پختونخوا میں بہتر گورننس، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، صحت کی بہتر سہولیات، کسانوں کی فلاح اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے نزدیک عوامی مسائل کے حل اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری ہی کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔
سہیل آفریدی گراس روٹ سطح سے وابستگی کے باعث وہ عوامی مسائل اور زمینی حقائق سے آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق یہی تجربہ انہیں عوامی توقعات کو سمجھنے اور ان کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
عمران خان کے حامیوں کی رائے ہے کہ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا میں شفافیت، احتساب اور عوامی فلاح کے اصولوں کو مزید فروغ دے رہا ہے۔ تاہم، کسی بھی حکومت کی کامیابی کا انحصار اس کی عملی کارکردگی، مؤثر پالیسیوں اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔
صوبے کے عوام کی توقع ہے کہ نئی قیادت ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے گی، نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرے گی، عوامی خدمات کے معیار میں بہتری لائے گی اور ایسے فیصلے کرے گی جن کے مثبت اثرات ہر شہری تک پہنچیں۔
عمران خان کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے عوام کی توقعات : ڈاکٹر شیراز علی






