اب بات قبرستانوں تک پہنچ گئی : راجہ جاوید اختر

اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم پر واقع سوہان دارالخلافہ بننے سے قبل کی آبادی اسلام آباد اور راولپنڈی کو تازہ سبزیاں مرغی کا گوشت فراہم کرنے والا علاقہ اسلام آباد کے خانوں ملکوں اور اعوانوں کی بستی کے مکینوں کو آج کل اپنے اباواجداد بزرگوں کی قبروں آرام گاہوں کے لالے پڑے ہوئے کیسے مردے نکالیں کیسے پیاروں کا جسد خاکی دیکھیں بے بسی اور بے کسی دیکھیں دو دو بار مرنے اور دفنانے کا عمل دیکھیں کتنا اذیت ناک درد ناک اور جان لیوا ھے یہ سوچ کر ہی روکھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ مردے قبروں سے نکالے جائیں گے اور پھر دفنائے جائیں گے مجوزہ لنک روڈ کی تعمیر کے لیے قبروں کی منتقلی کے اقدامات نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے ورثاء کو قبروں کی نشاندہی اور منتقلی کا فیصلہ قابل افسوس ھے شہری حلقے اس حساس معاملے میں مذہبی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم سہی، لیکن آخری آرام گاہوں سے متعلق فیصلوں میں مرحومین کے احترام اور لواحقین کے جذبات کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوہان میں جاری یہ کارروائی اب صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ قبروں کی منتقلی کے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد عوامی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق متاثرہ قبروں کے ورثاء کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں جن میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قبرستان پہنچ کر اپنے مرحوم عزیزوں کی قبروں کی نشاندہی کریں اور منتقلی کے عمل میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات قانونی اور شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیے جائیں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ قبروں کی منتقلی کا عمل جلد شروع کیا جا رہا ہے، لہٰذا جن ورثاء نے ابھی تک سی ڈی اے کے نمائندوں سے رابطہ نہیں کیا وہ فوری طور پر رابطہ کریں تاکہ کسی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔دوسری جانب مقامی آبادی اور شہری حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبروں اور قبرستانوں کا معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ مذہبی، اخلاقی اور جذباتی نوعیت کا بھی ہے، اس لیے اس حوالے سے انتہائی حساسیت اور شفافیت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ورثاء کی مشاورت، علماء کرام کی رہنمائی اور قانونی تقاضوں کو یقینی بناتے ہوئے ہی کوئی حتمی اقدام کیا جائے۔مقامی سماجی حلقوں کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے مختلف آبادیوں، تجاوزات اور تعمیرات کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی زیرِ بحث ہیں، تاہم اب قبروں کی منتقلی کے معاملے نے ایک نئی عوامی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن مرحومین کے احترام اور لواحقین کے جذبات کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ لنک روڈ منصوبہ علاقے میں ٹریفک کے مسائل کے حل اور بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ قبروں کی منتقلی کا عمل مکمل قانونی، انتظامی اور مذہبی ضابطوں کے مطابق انجام دیا جائے گا۔ تاہم اس معاملے پر مقامی آبادی کی نظریں اب سی ڈی اے کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں

خبر پر اپنی رائے دیں