کٹھمنڈو(شہرنامہ نیوز) نیپال اور تبت کی سرحد پر آئے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک کم از کم 250 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔ نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 250 ہو گئی ہے، ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں، اب بھی لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 1500 افراد لاپتہ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق انڈیا سے ہے۔ نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق پورا ملک صدمے میں ہے، بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔ اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً آٹھ ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے، امریکا، چین، یورپی یونین اور انڈیا ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ نے اس زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی،250ہلاک، 1500 افراد تاحال لاپتہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







