راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے فرانزک ٹیسٹ مکمل

راولپنڈی(شہرنامہ نیوز) راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے عسکری اپارٹمنٹمس لالکڑتی میں سسرال میں بے دردی سے قتل کی جانے والی قومی اسمبلی میں تعینات ڈیجٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق روالپنڈی پولیس ملزمان کو فرانزک لیب لاہور لے آئی جہاں ملزمان کے پولی گرافک اور ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے، پولیس ملزمان کو لیکر واپس روالپنڈی روانہ ہو گئی۔ ولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ تین روز بعد جب کہ ڈی این آے کی رپورٹ 3 ہفتوں بعد پولیس کو ملے گی، فرانزک ٹیسٹ کے بعد تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔
حنا جاوید کو 20 اگست کو سسرال میں خاوند کی ساتھ گھریلو ناچاقی پر بے دردی سے قتل کرکے نعش کو باتھ روم میں تار کے ساتھ لٹکا دیا گیا تھا اور مقتولہ کی سسر کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گی تھی کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں جب پولیس پہنچی تو قتل کا انکشاف ہوا جس پر پولیس نے مقتولہ کے خاوند اور ملازم کو گرفتار کرلیا تھا جو تین روزہ ریمانڈ پر ہیں جبکہ سسر شامل تفتیش ہیں۔ ولیس تفتیش کے دوران گھریلو ملازم نے دو مختلف بیان دینے کے بعد ریمانڈ پر پولیس کسٹڈی میں تیسرا بیان دیتے ہوئے کیس کی کڑیاں کھول دیں تھی اور مبینہ طور پر اقرا کیا کہ مقتولہ کے شوہر نے اہلیہ سے جھگڑے کے دوران مدد کے بلوایا اس دوران حنا جاوید خود کو بچانے کے بھاگی تو اسکو پکڑ گلہ دبا دیا پھر نعش باتھ روم میں شاور سے باندھ دی تھی پولیس زرائع کے مطابق گھریلو ملازم مقتولہ کے پرس اور گھر میں رکھی نقدی بھی چرانے میں ملوث رہا آر پی او راولپنڈی سرفراز الپا نے سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 20 اگست کی صبح چھ بجے اصغر فیاض امام نے تھانے آکر اطلاع دی تھی کہ فیصل علوی روڈ پر واقع گھر میں چور گھس آئے ہیں۔ پولیس موقع پر پہنچی تو حنا جاوید کی لاش واش روم میں شاور سے بندھی ہوئی ملی جبکہ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے۔ موقع کی صورتحال دیکھ کر پولیس نے معاملے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے قتل کے زاویے سے تحقیقات شروع کیں۔ آر پی او کے مطابق مقتولہ کے سسر اصغر فیاض کو بھی شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے اور ڈی این اے سمیت تمام سائنسی، تکنیکی اور ہیومن انٹیلی جنس ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹیم تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کررہی ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں