ایران امریکہ امن معاہدہ۔۔۔طوفان سے پہلے خاموشی: عبدالمجید کیانی

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والی شدید ترین فوجی کشیدگی، میزائل حملوں اور خطے میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد، جنگ بندی (Ceasefire) کا معاہدہ بظاہر ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سیاسی ماہرین اور عالمی تجزیہ کاروں کے درمیان یہ سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا یہ صرف ایک عارضی خاموشی ہے؟ ہم اس جنگ بندی کے مستقبل، دونوں ممالک کے مفادات اور ممکنہ چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔جنگ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اہداف پر غیر معمولی میزائل اور ڈرون حملوں اور دوسری طرف سے امریکہ کی سخت معاشی و فوجی جوابی کارروائیوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تیل کی سپلائی لائنز، خصوصاً آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے خطرے میں پڑنے سے عالمی طاقتوں نے مداخلت کی، جس کے نتیجے میں یہ عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ تاہم، اس معاہدے کی بنیادیں ابھی تک انتہائی کمزور ہیں کیونکہ بنیادی تنازعات، جیسے کہ ایران کا جوہری پروگرام اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ، اب بھی حل طلب ہیں۔ماہرین کے مطابق اس جنگ بندی کا مستقبل 3 بڑے عوامل پر منحصر ہے، جو کسی بھی وقت اس امن کو تباہ کر سکتے ہیں پہلا جوہری پروگرام کا تنازع (The Nuclear Hurdle) کا تنازع ہے جس کے بارے میں امریکہ کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر رول بیک کرے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاع اور خودمختاری کا ضامن سمجھتا ہے۔ جب تک اس معاملے پر کوئی طویل مدتی سفارتی حل نہیں نکلتا، جنگ بندی کا مستقل رہنا ناممکن لگتا ہے دوسراپروکسی گروپس کی سرگرمیاں (Role of Proxies) ہیںایران کی اصل طاقت خطے میں موجود اس کے حامی گروپ (جیسے حزب اللہ، حوثی، اور عراقی ملیشیا) ہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران ان گروپس کی فنڈنگ اور ہتھیاروں کی فراہمی بند کرے۔ اگر ان گروپس کی طرف سے کسی بھی امریکی یا اسرائیلی ہدف پر دوبارہ حملہ ہوتا ہے، تو یہ جنگ بندی سیکنڈوں میں ختم ہو جائے گی تیسرے نمبر پردونوں ممالک کے اندر شدید سیاسی دباؤ موجود ہے۔ امریکہ میں سخت گیر سیاسی دھڑے ایران کے خلاف نرم رویہ اختیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں، جبکہ ایران کے اندر بھی قدامت پسند قیادت امریکہ پر مکمل بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دونوں اطراف سے کوئی بھی چھوٹی سی سیاسی غلطی معاہدے کو ہوا میں اڑا سکتی ہے۔مستقبل کے منظرنامہ پر مظر ڈالیں اوراگر ہم مستقبل کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو 3 ممکنہ راستے سامنے آتے ہیںپہلا یہ کہ یہ جنگ بندی اگلے چند ماہ تک برقرار رہے گی، جس کے دوران دونوں ممالک سفارتی مذاکرات کا ڈھونگ رچائیں گے تاکہ اپنی معیشتوں اور فوجی حکمتِ عملی کو دوبارہ منظم کر سکیں۔ یہ “نہ جنگ، نہ امن” کی صورتحال ہوگی جو کسی بھی وقت دوبارہ تصادم میں بدل سکتی ہے۔دوسرا یہ کہ کسی ایک پروکسی حملے یا امریکہ کی طرف سے نئی معاشی پابندیوں کے ردِعمل میں یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو اگلی لہر پہلے سے زیادہ شدید ہوگی، جس میں براہِ راست جنگ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔تیسرا یہ کہ چین، روس اور یورپی یونین جیسے عالمی کھلاڑی اپنے معاشی مفادات (خصوصاً تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے) کے لیے دونوں ممالک پر دباؤ برقرار رکھیں گے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں۔ اس صورت میں ایک نیا طویل مدتی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا مستقبل فی الحال ایک “کمزور دھاگے” سے لٹکا ہوا ہے۔ یہ مستقل امن کا راستہ تب ہی بن سکتا ہے جب دونوں ممالک اپنے سخت گیر مطالبات سے پیچھے ہٹیں اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک دوسرے کے وجود اور اثر و رسوخ کو تسلیم کریں۔ بصورتِ دیگر، یہ صرف طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے، اور خطے میں پائیدار امن کا خواب ابھی دُور دکھائی دیتا ہے

خبر پر اپنی رائے دیں