مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور بین الاقوامی سیاست میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ بیان عالمی سفارت کاری میں ایک نئے موڑ کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ “ہمیں صرف امریکہ سے غرض نہیں، ہمارا دوست انڈیا بھی ہے”۔ تاریخی طور پر اسرائیل نے ہمیشہ اپنی بقا اور دفاع کے لیے واشنگٹن کی طرف دیکھا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے بعض معاملات پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کے بعد اسرائیل نے اب متبادل عالمی طاقتوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اپنی تحریر میں ہم نیتن یاہو کے اس بیان کے پسِ منظر، امریکہ کے ساتھ بدلتے ہوئے تعلقات اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے عالمی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ بنجمن نیتن یاہو کا امریکی دباؤ سے آزادی کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی داخلی سیاست، صدارتی انتخابات کے اثرات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کی فوجی حکمتِ عملی پر کھل کر تنقید کر رہی تھی۔ امریکہ کی طرف سے بعض اوقات ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی دھمکیاں یا جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں نے نیتن یاہو کو یہ سخت پیغام دینے پر مجبور کیا کہ اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے صرف ایک سپر پاور کا محتاج نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر امریکہ اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے اسرائیل سے پیچھے ہٹتا ہے، تو عالمی سطح پر اسرائیل کے پاس دوسرے مضبوط اور قابلِ بھروسہ دوست موجود ہیں، جن میں بھارت سرِ فہرست ہے۔نیتن یاہو کی طرف سے بھارت کا نام لینا کوئی اتفاق کی بات نہیں بلکہ یہ پچھلی ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پروان چڑھنے والے گہرے تعلقات کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے موجودہ تعلقات 3 ستونوں پر کھڑے ہیں پہلے نمبر پردفاعی شراکت داری (Defense Partnership) ہے اور بھارت اس وقت اسرائیلی ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی (جیسے ڈرونز، اینٹی میزائل سسٹم اور جدید رائفلز) کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار ہے اور دونوں ممالک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان قریبی روابط ہیں اور وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کرتے ہیں۔دوسرے نمبر پرسیاسی اور سفارتی حمایت (Diplomatic Support) بھی زیادہ ہے ماضی کے برعکس، وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دور میں بھارت کی خارجہ پالیسی واضح طور پر اسرائیل نواز ہو چکی ہے۔ عالمی فورمز اور اقوامِ متحدہ (UN) میں ووٹنگ کے دوران بھارت اکثر یا تو اسرائیل کے خلاف قراردادوں پر غیر جانبدار رہتا ہے یا پھر اسرائیل کے حق میں کھڑا ہوتا ہے، جو نیتن یاہو کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے۔ تیسرا یہ کہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی، زراعت اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ بھارت کی وسیع مارکیٹ اسرائیلی کمپنیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔کیا بھارت امریکہ کا متبادل بن سکتا ہے؟سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان ایک زبردست سفارتی پتا (Diplomatic Card) تو ہے، لیکن کیا عملی طور پر بھارت امریکہ کی جگہ لے سکتا ہے؟ اس کا جواب اتنا سادہ نہیں ہے۔ امریکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں اسرائیل کے خلاف آنے والی ہر بڑی قرارداد کو ویٹو (Veto) کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ اربوں ڈالرز کی براہِ راست فوجی امداد صرف امریکہ ہی فراہم کر سکتا ہے، جو بھارت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ بھارت کے مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے مسلم ممالک (جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران) کے ساتھ بھی گہرے معاشی مفادات اور تیل کی وابستگی ہے۔ بھارت کبھی بھی اسرائیل کی خاطر اپنے عرب دوستوں کو مکمل طور پر ناراض کرنے کا رسک نہیں لے سکتا۔عالمی سیاست پر اس کے اثرات اور بنجمن نیتن یاہو کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا یک قطبی (Monopolar) نہیں رہی جہاں صرف امریکہ ہی فیصلے کرتا تھا، بلکہ اب یہ کثیر قطبی (Multipolar) ہو چکی ہے جہاں چھوٹے ممالک بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے اتحاد بنا رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کا بڑھتا ہوا تعاون جہاں خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے، وہاں یہ امریکہ کے لیے بھی ایک چشم کشا پیغام ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو اپنی شرائط پر مجبور نہیں کر سکتا۔ مستقبل میں یہ دوستی دفاعی اور سٹریٹجک لحاظ سے مزید گہری ہوگی، لیکن اسرائیل کو اپنی عالمی بقا کے لیے اب بھی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان ایک باریک لکیر پر توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
نیتن یاہو کا امریکہ کے لیے چشم کشا پیغام۔۔عبدالمجید کیانی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







