ملک میں ڈیجیٹل میڈیا، پوڈ کاسٹس اور آن لائن آزادیِ اظہارِ رائے کی حدود کا معاملہ ایک بار پھر ملک گیر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ معروف براڈکاسٹ جرنلسٹ، ٹی وی اینکر اور یوٹیوبر ریحان طارق کی حالیہ گرفتاری نے جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ہے، وہاں دوسری طرف پاکستان کی صحافتی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اندر تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل مواد کی نگرانی اور قانون کے نفاذ کے طریقے کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں۔ریحان طارق کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور ایف آئی اے نے اس وقت لاہور ایئرپورٹ پر حراست میں لیا جب وہ لندن کے دورے سے واپس پاکستان پہنچے تھے۔ ریحان طارق پر الزام ہے کہ انہوں نے چند ہفتے قبل اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں ایک ممتاز مذہبی اسکالر کا انٹرویو کیا، جس میں مبینہ طور پر انتہائی حساس اور متنازع مذہبی و فرقہ وارانہ موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ اس پوڈ کاسٹ کے مخصوص کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ان کے خلاف باقاعدہ شکایات درج کروائی گئیں۔سائبر کرائم ڈپٹی ڈائریکٹر کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، ریحان طارق پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295 اے (مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) اور298 کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون یعنی پیکا ایکٹ کی دفعہ11کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ ان کا نام نو فلائی لسٹ میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ریحان طارق کا کیس اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں روایتی قوانین کی بجائے ڈیجیٹل قوانین یعنی پیکا ایکٹ کا سہارا لیا گیا ہے۔ پیکا ایکٹ کی دفعہ 11خاص طور پر آن لائن نفرت انگیز تقاریر اور ایسے مواد کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے جو معاشرے میں فرقہ وارانہ یا مذہبی منافرت پھیلانے کا باعث بنے۔اس کیس نے حکومت کے ان دعووں اور وعدوں کا پول بھی کھول دیا ہے جو ماضی میں صحافتی برادری سے کیے گئے تھے۔ حکمران جماعت اور وزراء نے بارہا یہ یقین دہانی کروائی تھی اور باقاعدہ وعدہ کیا تھا کہ پیکا ایکٹ کے سخت قوانین کو پیشہ ور صحافیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریحان طارق کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت پرچہ درج کرنا حکومت کی کھلی وعدہ خلافی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان قوانین کا اصل مقصد جرم روکنا نہیں بلکہ میڈیا کی زبان بندی کرنا ہے۔ ریحان طارق کی ہتھکڑیوں میں عدالت پیشی اور اچانک گرفتاری پر پاکستان کی صحافتی برادری، خاص طور پر ڈیجیٹل میڈیا اور پوڈ کاسٹ ہوسٹس کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ملک میں آزادانہ صحافت اور سوال اٹھانے کی آزادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔صحافتی برادری کے بنیادی خدشات درج ذیل ہیں:انٹرویو کرنے پر سزا کا خوف: صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک اینکر یا پوڈ کاسٹر کا کام ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے سوال کرنا ہے۔ اگر مہمان کے جوابات کی ذمہ داری بھی ہوسٹ پر ڈال کر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جانے لگے، تو مستقبل میں کوئی بھی صحافی حساس موضوعات پر بات کرنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات، خاص طور پر نفرت انگیز تقریر اور توہینِ مذہب کی تعریف اتنی مبہم ہے کہ اسے کسی بھی وقت کسی بھی یوٹیوبر یا ڈیجیٹل کریایٹر کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صحافتی حلقوں کا خدشہ ہے کہ یہ کارروائی ڈیجیٹل میڈیا کو سنسر کرنے اور اسے قابو میں لانے کی ایک کڑی ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ مناسب مذہبی معلومات کے بغیر ایسے حساس موضوعات پر بحث سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ریحان طارق کی ضمانت کی درخواست پر حتمی بحث آنے والے دنوں میں متوقع ہے، جس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ جیل سے باہر آ سکیں گے یا نہیں۔یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں ڈیجیٹل مواد، مذہب اور قانون کے سنگم پر ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ پاکستان میں پوڈ کاسٹرز اور صحافی کس حد تک آزاد رہ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گفتگو کر سکتے ہیں اور پیکا ایکٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کس طرح لگام دی جا سکتی ہے۔
ریحان طارق کی گرفتاری: پیکا ایکٹ اور صحافتی برادری کے خدشات: عبدالمجید کیانی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







