پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ،2030تک تعداد 22لاکھ تک لے جانے کا ہدف

تحریر ، محمد تنویر ہاشمی
پاکستان میں بڑھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کے اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے سے نمٹنے کےلیے الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے نئی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30کا اجراء کیا جس کے بعد الیکٹرک بائیک اور گاڑیوں کی تعداد میںتیز ی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنیوالی کمپنیوںکو لائسنس دیئے گئے ہیں ،جن کی تعداد بڑھ کر 62سے زائد ہو چکی ہے، حکومت نے 2030تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30فیصد اور 2040تک 90فیصد لے جانے کاہدف مقرر کیاگیاہےاور ان کی تعداد کو 22لاکھ تک پہنچایا جائے گا ، الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ساتھ صارفین کو کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے جس کے حل کےلیے حکومت کو ترجیح بنیادوں پر اقدامات کرنا ہونگے ان میں چارجنگ سٹیشن کی تعداد میں اضافہ ، الیکٹرک گاڑیوں اور بائیک کی مرمت کرنیوالی ورکشاپ اور سپیئر پارٹس کی آسانی سے دستیابی نہایت ضروری ہے ، الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنیوالی مختلف کمپنیوں کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ گاڑیوں اور چارجنگ سٹیشن میں چارجنگ کی پورٹس کو کمپیٹبل رکھیں تاکہ آسانی سے چارجنگ کی جاسکے ،اعداد وشمار کے مطابقپاکستان میں دو لاکھ 40ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیک کی رجسٹریشن ہو چکی ہے ملک میں اب تک 12 ہزار 800 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی گئی ہیں اورایک لاکھ 60 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں مقامی سطح پر تیار کی گئی ہیں، اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کا مارکیٹ میں مجموعی شیئر ایک فیصد سے کم ہے لیکن چار اور تین پہیو ں والی الیکٹرک گاڑیاں 90ہزارسے زائد رجسٹر ڈ ہو چکی ہیں جبکہ سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیک کی رجسٹریشن ہو رہی ہے، آئندہ پانچ سال 2025-30تک کی نیو انرجی وہیکل پالیسی سے الیکٹرک گاڑیاں تیزی سے تیار ہورہی ہے اور حکومت کا ہدف ہےکہ 2030تک ان کی فروخت میں 30فیصد تک اضافہ کیاجائے جبکہ 2040تک اس کو 90فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے ، ایندھن کی بچت ،ماحولیاتی تحفظ کےلیے حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور فروخت میںاضافے کےلیے متعدد اقدامات کیے ہیں ,الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ زرمبادلہ کی بچت، فضائی آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی نمایاں مدد ملے گی،الیکٹرک بائیک کے لیے9ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی ہے جو کہ مجموعی قیمت فروخت پر 20فیصد دی جارہی ہے جس سے الیکٹرک بائیک کی قیمت اڑھائی لاکھ روپے سے کم ہو کر ایک لاکھ 60ہزار روپے پر آگئی ہے، سرکاری اعداد وشمارکے مطابق وسط 2025تک ملک میں الیکٹرک کاروں کی تعداد میں 80ہزار اضافہ ہوا اور 62سے زائد مینوفیکچررز نے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کےلیے لائسنس حاصل کیے ، سال 2026کی پہلی ششمائی کے دوران دو پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 175فیصد گروتھ ہوئی ،اور اس پالیسی کے اجرا کےبعددولاکھ 70ہزار سے زائد درخواستیں آئی ہیں ، الیکٹرک گاڑیوں کا چارج کرنے کےلیے چارجنگ سٹیشن میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس وقت 140سے زائد چارجنگ سٹیشن موجود ہیں تاہم بہت جلد اس کی تعداد کو ہزاروں تک لےجانے کا ہدف ہے،ماہرین اورالیکٹرک گاڑیوں کےصارفین کے مطابق ان گاڑیوں کی مرمت ، چارجنگ کی سہولت، اور دیکھ بھال سے متعلق کافی مسائل کا سامنا ہے ،الیکٹرک گاڑیوں اور بائیک کا اس وقت ایک بڑا مسلہ چارجنگ اانفراسٹرکچر میں کمی کا ہے، جس کے باعث زیادہ تر افراد الیکٹرک گاڑی رکھنے میں خود کو زیادہ پر اعتماد محسوس نہیں کرتے ، پاکستان میں بہت سے ڈی سی چارجرز موٹر سائیکلوں کو چارج کرنے کی سہولت فراہم نہیں کرتے، جبکہ کئی الیکٹرک موٹر سائیکلیں دستیاب ڈی سی چارجنگ ٹیکنالوجی کو سپورٹ نہیں کرتیں جو کہ صارفین کےلیے ایک اضافہ رکاوٹ ہے، ایک الیکٹرک موٹر سائیکل کو چارج ہونے میں 30 منٹ لگتے ہیںجس کو مزید کم کرنے کی ضرورت ہے،ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت اور گاڑی کی مطلوبہ حدِ سفر ختم ہونے کا خوف بڑی رکاوٹیں ہیں کیونکہ چارجنگ انفراسٹرکچر کافی محدود ہے۔ زیادہ تر الیکٹرک موٹر سائیکلیں گرافین کوٹنگ والی لیڈ ایسڈ بیٹریوں پر انحصار کرتی ہیں، جن میں نئی بیٹری ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں خرابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ان گاڑیوں کی مرمت کا نظام بھی ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے مختلف نوعیت کی مہارت درکار ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس وقت ای وی کی سروسنگ روایتی موٹر سائیکل کے مقابلے میں زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کے مناسب تعداد میں چارجنگ اسٹیشن کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال عملی طور پر ممکن بنایا جا سکے،حکومت، ریگولیٹرز اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ چارجنگ کی سہولت کو وسعت دی جا سکے، ٹائم آف یوز ٹیرف متعارف کرائے جائیں اور اسمارٹ چارجنگ کو ممکن بنایا جائے، جس کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کو دن کے ان اوقات میں منتقل کیا جا سکے جب سولر بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے، جبکہ دیگر آف پیک اوقات سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے، ماہرین کے مطابق پاکستان کو ہر سال تیل کی درآمد کی مد میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے عفریت کا بھی پاکستان کا سامنا ہے، کم لاگت الیکٹرک گاڑیاں پاکستان کی آٹو مارکیٹ کےلیے نہایت اہمیت کی حامل ہیں ، پاکستان کی معیشت کو درآمد ات پر انحصارکم کرنا ہوگا اور زیادہ سے زیادہالیکٹرک گاڑیاں تیار کرنیوالے مینوفیکچرر ز کو مراعات دینا ہونگی ،ایران پر امریکی حملے کے بعد پٹرول کی انتہائی بلند قیمتوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے، پیٹرول کی لاگت میں اضافے کے باعث اس وقت پاکستانی صارفین کےلیے الیکٹرک گاڑی ترجیح بنتی جارہی ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں