خیبرپختونخوا کے سینئر پولیس افسران کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات

پشاور(شہرنامہ نیوز) خیبرپختونخوا پولیس کے سینئر افسران نے مجوزہ پولیس ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کردیا۔سینئر پولیس افسران نے وزیرقانون آفتاب عالم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بتایا کہ پولیس ایکٹ2017 لانےکامقصد پولیس کو بااختیاربنانا اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ تھا۔افسران نے کہا کہ نئے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 سے پولیس میں سیاسی مداخلت اور اثرورسوخ ہوگا اور اس کے نفاذکے بعد پولیس فورس بااختیار نہیں رہےگی جب کہ آئی جی کے اختیارات سیاسی قیادت کو منتقل کرنے سے امن وامان کی صورتحال پرمنفی اثرات پڑیں گے اور آئی جی پی کا عہدہ بےاختیار ہوجائےگا۔مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایکٹ کے تحت آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت کے نامزد افسران میں سے وزیراعلیٰ کریں گے، کسی ایک نام پرمتفق نہ ہونےکی صورت میں وزیراعلیٰ وفاقی حکوت کو مزید3 نام بھیجنےکا کہہ سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈی ایس پیز، ڈی پی اوز، ڈی آئی جیز، آر پی اوز اور ایڈیشنل آئی جیز کی تعیناتی اور تبادلے وزیراعلیٰ کریں گے، پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہ آئی جی کے بجائے وزیراعلیٰ ہوگا جب کہ آپریشنز کی پیشگی منظوری بھی وزیراعلیٰ سے لی جائے گی۔وزیرقانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے جیونیوز سے بات چیت میں بتایا کہ آئی جی سمیت پولیس افسران سے ملاقات ہوئی ہے، پولیس افسران نے کچھ شقوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو افسران کے نقطہ نظر سےمتعلق آگاہ کیا جائےگا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نےکمیٹی کو پولیس نظام میں بہتری لانےکیلئے مکمل اختیارات دیے ہیں، وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، فیصلوں کا اختیار حکومت کے پاس ہوناچاہیے۔دوسری جانب وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے بات چیت میں کہا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری وفاق کے نمائندے ہوتے ہیں، دونوں کی تقرری کا اختیارکسی صورت صوبائی حکومت کو نہیں ملےگا۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئی جی سے اختیارات لینے سے صوبے میں امن وامان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے، صوبائی حکومت نےکوئی بھی غیرقانونی کام کیا تو وفاقی حکومت ان کو روکنےکیلئے اپنے آپشنز استعمال کرےگی

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں