جرمنی سے تشریف لائیں معروف شاعرہ شازیہ نورین کے اعزاز میں یادگار عشائیہ
زندگی کی مصروف راہوں میں کچھ شامیں ایسی بھی آتی ہیں جو محض چند گھنٹوں کی محفل نہیں ہوتیں بلکہ یادوں کے دریچوں میں ہمیشہ کے لیے روشن چراغ بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خوب صورت شام اسلام آباد کے جی ایٹ مرکز میں واقع تندوری ریسٹورنٹ میں سجائی گئی، جہاں جرمنی سے پاکستان تشریف لانے والی ملک کی معروف شاعرہ شازیہ نورین کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ شام محبت، خلوص، ادبی وابستگی اور دوستوں کی بے لوث اپنائیت سے عبارت تھی۔
اس خوب صورت تقریب کا اہتمام جناب طارق عثمانی، عبدالرزاق سیال، صدر نیشنل پریس کلب، ڈاکٹر فرقان راؤ، سیکرٹری نیشنل پریس کلب، پروفیسر طاہر نعیم ملک، سینئر اینکر پرسن محسن رضا، سینئر اینکر پرسن مطیع اللہ جان، اعظم خان (بی بی سی)، فیاض چوہدری، بیورو چیف ڈاک، اور دیگر معزز دوستوں نے کیا۔ ان سب کی موجودگی نے اس شام کو وقار، محبت اور یادگار لمحات سے بھر دیا۔
شازیہ نورین محض ایک شاعرہ نہیں بلکہ لفظوں سے رشتہ استوار کرنے والی ایسی ادبی شخصیت ہیں جن کی شاعری میں احساس کی لطافت اور فکر کی گہرائی محسوس کی جا سکتی ہے۔ جرمنی میں قیام کے باوجود اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی زبان سے ان کی وابستگی اس بات کی علامت ہے کہ جغرافیائی فاصلے دلوں کے رشتوں کو کمزور نہیں کر سکتے۔ وطن کی فضا، اپنوں کی محبت اور اہلِ قلم کی قربت انسان کے لیے ہمیشہ ایک خاص کشش رکھتی ہے۔
اس تقریب کی دل آویز بات یہ بھی تھی کہ 14 اکتوبر شازیہ نورین کی سالگرہ کا دن تھا۔ چنانچہ اس حسین شام کو ان کی سالگرہ کی خوشیوں نے مزید یادگار بنا دیا۔ تقریب کے اختتام پر انہیں پھولوں کا خوب صورت گلدستہ پیش کیا گیا۔ پھولوں کی یہ پیش کش محض ایک رسمی تحفہ نہیں تھی بلکہ محبت، احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار تھی۔ اپنوں کے درمیان سالگرہ منانے کی خوشی اور دوستوں کی جانب سے ملنے والی محبت یقیناً ایسے لمحات ہیں جو مدتوں دل میں تازہ رہتے ہیں۔
عشائیے کے بعد ایک مختصر مگر خوب صورت شعری نشست بھی منعقد ہوئی، جس نے محفل کے ادبی رنگ کو مزید گہرا کر دیا۔ اتفاق بٹ، شازیہ نورین اور رخسانہ سحر نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعر و سخن کی اس نشست میں لفظوں نے احساسات کو زبان دی، خیال نے دلوں کے درمیان فاصلے سمیٹے اور شاعری نے محفل میں ایک ایسی فضا پیدا کی جس میں ہر شخص ادب کی خوشبو محسوس کرتا رہا۔
شاعری دراصل دلوں کو جوڑنے کا فن ہے۔ یہ انسان کو انسان کے قریب لاتی ہے، اجنبیوں کو مانوس کرتی ہے اور بکھرے ہوئے احساسات کو ایک مشترکہ زبان عطا کرتی ہے۔ جب اہلِ قلم ایک جگہ جمع ہوں تو گفتگو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں رہتی بلکہ تجربات، احساسات اور زندگی کے مختلف رنگوں کی شراکت بن جاتی ہے۔ اس شام کی شعری نشست بھی اسی خوب صورت روایت کا تسلسل تھی۔
اس تقریب کی اصل خوب صورتی صرف عمدہ کھانے، خوش گوار گفتگو یا ادبی نشست میں نہیں تھی، بلکہ اس خلوص میں تھی جو تمام شرکا کے رویوں سے جھلک رہا تھا۔ ایسے لوگ اور ایسی محفلیں اس حقیقت کا احساس دلاتی ہیں کہ زندگی کی اصل دولت تعلقات، محبت، احترام اور ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے میں پوشیدہ ہے۔ انسان جہاں بھی چلا جائے، اسے اپنے لوگوں کی محبت اور اپنے وطن کی مٹی سے جڑے رشتے ہمیشہ واپس بلاتے ہیں۔
شام ڈھل گئی، محفل اختتام کو پہنچی اور سب دوست اپنی اپنی مصروفیات کی طرف لوٹ گئے، لیکن اس شام کے خوش گوار لمحات دلوں میں محفوظ ہو گئے۔ کچھ ملاقاتیں تصویروں میں قید ہوتی ہیں اور کچھ یادوں میں؛ مگر وہ ملاقاتیں جو محبت اور خلوص سے عبارت ہوں، وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی برقرار رکھتی ہیں۔
آخر میں ہم جناب طارق عثمانی، عبدالرزاق سیال، ڈاکٹر فرقان راؤ، پروفیسر طاہر نعیم ملک، محسن رضا، مطیع اللہ جان، اعظم خان، فیاض چوہدری اور دیگر تمام معزز دوستوں کے تہِ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس حسین شام کو سجانے اور یادگار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی محبت، خلوص اور میزبانی ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہے۔
دعا ہے کہ دوستیوں کے یہ چراغ یونہی روشن رہیں، ادب کی محفلیں آباد رہیں اور محبتوں کے یہ سلسلے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جائیں۔ شازیہ نورین کے لیے نیک تمنائیں کہ ان کی زندگی خوشیوں، کامیابیوں اور ادبی کامرانیوں سے معمور رہے۔
کچھ شامیں گزر نہیں جاتیں، دل میں اتر جاتی ہیں؛ اور کچھ لوگ مل کر محض محفل نہیں سجاتے، زندگی بھر کے لیے خوب صورت یادیں تخلیق کر جاتے ہیں۔
یہ شام بھی ایسی ہی ایک شام تھی، جو اپنی تمام تر خوب صورتی کے ساتھ ہماری یادوں میں ہمیشہ آباد رہے گی۔







