تہران (شہرنامہ نیوز)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر کارروائیاں حق دفاع میں کی گئیں، جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا ایران بھی ایم اویوپرعملدرآمد نہیں کرےگا، ایران کو دفاع پر مورد الزام ٹھہرانا غیر ذمےدارانہ ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائےہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار طےکرنےکی کوشش کررہاہے لیکن عمان پر امریکا کے دباؤ نے ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ ترجمان ایرانی وزات خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت بحران سےگزررہی ہے، امریکامفاہمتی یاداشت کی مسلسل خلاف ورزی کررہاہے۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکانے ایم اویوکی خلاف ورزی کی اورآبنائےہرمزپر ایرانی وعدے سے متعلق طےایک ماہ کی مہلت بھی مکمل ہونےنہیں دی۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ثالثین امریکا اورایران کےدرمیان ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری رکھے ہوئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہا کہہ چکے علاقائی ممالک ایران کےخلاف اپنی زمین استعمال نہ ہونے دیں، ایران آبنائےہرمز میں تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی تمام سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور وہاں ضروری سکیورٹی اقدامات پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات میں مداخلت کر کے ایک مرتبہ پھر اس اہم بحری گزرگاہ میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت کے باعث بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی تجارت اور خطے کی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، سمندری تجارت اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
امریکی اڈوں پر کارروائیاں ہمارا دفاعی حق، ایران کو دفاع پر مورد الزام ٹھہرانا غیر ذمےدارانہ ،ایرانی وزارت خارجہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل






