تہران(شہرنامہ نیوز) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے میں جنگ کو مزید وسعت دینا نہیں چاہتا تاہم اگر ملک کی خودمختاری یا سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا تو ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے خاندانی طب اور ریفرل سسٹم کے قومی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور اندرونی استحکام کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کی ترجیح جنگ نہیں بلکہ امن، استحکام اور قومی ترقی ہے، لیکن ملک کی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کو مل کر ایسا مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں دشمن نہ لالچ میں آئے، نہ اندرونی معاملات میں مداخلت کر سکے اور نہ ہی معاشرے میں تقسیم یا انتشار پیدا کرنے میں کامیاب ہو۔مسعود پزشکیان نے کہا وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اوراپنے محاذ پر ڈٹے رہیں گے، فوجی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، تمام فیصلے سپریم لیڈر کی ہدایت پر ہورہے ہیں۔ ایرانی صدر کے مطابق قومی یکجہتی، مضبوط ریاستی ادارے اور عوامی اعتماد ہی وہ عوامل ہیں جو بیرونی دباؤ اور خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی داخلی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھے گا تاکہ ملک ہر قسم کے چیلنج کا سامنا کرنے کے قابل ہو۔ صدر پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان مختلف معاملات پر سفارتی اور عسکری تناؤ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب مزید جنگ سے گریز کا پیغام دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنی دفاعی پالیسی پر سخت مؤقف برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔
ایران کی ترجیح جنگ نہیں،خودمختاری کو خطرہ ہوا تو دفاع کریں گے، مسعود پزشکیان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







