سینیٹ اورقومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز ترمیمی بل کی منظوری دے دی

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے ۔تفصیلا ت کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے، نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا ، جس کے تحت دفاعی افواج کا ایک مشترکہ ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا۔ ایکٹ 13 نومبر 2025 سے نافذالعمل ہوگا۔ منظور شدہ قانون کے تحت دفاعی افواج کا ہیڈکوارٹر مسلح افواج کا ہیڈکوارٹر ہوگا اور یہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت ذمہ داریاں انجام دے گا۔ ڈیفنس ہیڈکوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور میں وزیراعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر کے طور پر کام کرے گا۔ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہوگا اور اس کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حوالے سے وہ وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں کثیر الجہتی انضمام، عملی ہم آہنگی، رابطہ کاری اور مشترکہ امور کی نگرانی شامل ہے۔ ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر افراد کے علاوہ کسی شخص کو متعلقہ قوانین کے مطابق ملازمت سے ریٹائر، سبکدوش یا برطرف کرسکیں گے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو متعلقہ قوانین کے مطابق استعفیٰ منظور یا مسترد کرنے اور ملازمت برقرار رکھنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جبکہ وہ کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت کی حد میں کمی بھی کرسکیں گے۔ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ دیگر اختیارات استعمال اور فرائض انجام دے سکیں گے۔ وفاقی حکومت ایکٹ کے احکامات کو مؤثر بنانے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرے گی، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ان قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لیے ہدایات اور احکامات جاری کرسکیں گے۔ ایکٹ کے نفاذ میں کسی مشکل یا کسی دوسرے نافذالعمل قانون سے عدم مطابقت کی صورت میں صدر مملکت اس مشکل کا ازالہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔ وفاقی کابینہ نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء کے مسودے کی منظوری دی تھی ۔ حکومت کے مطابق یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی جانے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء کا مسودہ پارلیمان کے جاری اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔ حکومت کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم ضروری ہوگئی تھیں، جس کے تحت متعلقہ قانونی اور انتظامی امور کو نئے آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ایکٹ کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسزکےعہدے اورہیڈ کوارٹرز کےانتظامی امورکا تعین کرنا ہے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، کابینہ اجلاس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانےکیلئےاقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق عدالتی فیصلے پر بھی ارکان کو اعتماد میں لیا گیا۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں