شیشہ نوشی بھی سگریٹ کی طرح خطرناک، ماہرین نے خبردار کردیا

دوبئی(شہرنامہ نیوز)دوستوں کی محفل ہو یا کسی کیفے میں بیٹھک، شیشہ پینا بہت سے لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن چکا ہے، تاہم طبی ماہرین نے اس عادت کے صحت پر سنگین اثرات سے خبردار کر دیا ہے۔بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشہ پینے کو سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ سمجھنا ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ڈاکٹر سلیمان الحبیب میڈیکل گروپ کے ماہرِ امراضِ چیسٹ ڈاکٹر محمد فوزی قطرانجی کے مطابق ایک گھنٹے تک شیشہ پینے کا موازنہ تقریباً 40 سگریٹ پینے سے کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب سعودی جرمن اسپتال کی ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر ریچل کامنسکی کا کہنا ہے کہ بعض افراد مسلسل 2 سے 4 گھنٹے تک شیشہ پیتے ہیں جس کے دوران دھوئیں کی مجموعی مقدار بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عام تاثر ہے کہ شیشے میں موجود پانی دھوئیں کے نقصان دہ اجزا کو ختم کر دیتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔شیشے کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ، تارکول اور دیگر زہریلے مادے موجود ہو سکتے ہیں، جو پھیپھڑوں اور دل کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ڈاکٹر ریچل کامنسکی کے مطابق مسلسل کھانسی، بلغم، سانس میں سیٹی کی آواز اور سانس پھولنے جیسی علامات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ علامات پھیپھڑوں کی دائمی بیماری سی او پی ڈی کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں جس میں سانس لینے میں بتدریج دشواری بڑھنے لگتی ہے۔ماہرین نے شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا استعمال ترک کرنے اور ضرورت پڑنے پر طبی مشورہ لینے کی تاکید کی ہے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں