*عظمی ہرلینی*
ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ محض جہازوں، توپوں و ٹینکوں کا معرکہ نہیں تھی، یہ غیرتِ قومی اور ارادۂِ دفاع کا ایسا امتحان تھا جس میں پاکستان سرخرو ہوا۔ اس امتحان کا سب سے روشن باب، پاک فضائیہ کے شاہینوں کی وہ بے مثال جدوجہد ہے جس نے کم وسائل، محدود تعداد اور سخت حالات کے باوجود دشمن کے منصوبوں کو خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ جب زمینی محاذ پر خطرہ بڑھا، جب لاہور کے دروازوں تک جنگ کی دھمک گونجی، تب آسمانِ پاکستان نے گواہی دی کہ اس کے نگہبان جاگ رہے ہیں- پاک فضائیہ، جس کے پاس اس وقت عددی اعتبار سے محدود طیارے اور محدود اثاثے تھے، اپنی پیشہ ورانہ تیاری، نظم و ضبط اور ایمان افروز جذبے کی بدولت ایک ایسی قوت بن کر ابھری جس نے جنگ کا توازن بدل کر رکھ دیا۔ شاہینوں کے اسکواڈرن، رات کی تاریکی میں بمبار مشنوں سے لے کر دن کے اجالے میں دشمن کے لڑاکا جہازوں سے براہِ راست تصادم تک، ہر محاذ پر سینہ سپر رہے۔ دفاعی منصوبہ بندی ہو یا جارحانہ کارروائی، پاک فضائیہ نے ثابت کیا کہ تعداد نہیں، تربیت، جرأت اور عزم فیصلہ کن ہوتے ہیں۔
ستمبر 1965 کی فضائی جنگ کا آغاز اسی لمحے ہوا جب دشمن نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور کی سمت پیش قدمی کی۔ زمینی محاذ پر یکدم دباؤ بڑھا، مگر فضا میں جو جواب تیار تھا وہ دشمن کی توقعات سے کہیں آگے تھا۔ پاک فضائیہ نے تاخیر نہیں کی، شکوک کو جگہ نہیں دی، ہچکچاہٹ کو قریب نہیں آنے دیا۔ فضائی آپریشنز کا پہلا مقصد دشمن کے فضائی اڈوں، اس کے لڑاکا جہازوں اور اس کے حمایت یافتہ زمینی دستوں کو مفلوج کرنا تھا، تاکہ پاکستان آرمی کو سانس لینے، منظم ہونے اور جوابی وار کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں شہداء اور غازیوں کا فرق مٹ کر صرف ایک نام رہ گیا: مجاہدِ فضاء۔ کوئی طیارے سمیت واپس لوٹا، کوئی آسمان پر اپنا آخری دائرہ بنا کر شہادت کی وادی میں اتر گیا، مگر سب نے ایک ہی عہد نبھایا، وطن پہلے، جان بعد میں۔
اسکواڈرن لیڈر سر فراز احمد رفیقی شہید اسی عہد کا سب سے درخشاں نشان ہیں۔ ان کی قیادت میں دشمن کے مضبوط فضائی اڈے پر حملہ محض ایک مشن نہیں تھا، ایک پیغام تھا کہ پاک فضائیہ دشمن کے دل پر وار کرنے کی سکت اور نیت دونوں رکھتی ہے۔ جب شدید فائر کے درمیان ان کے جہاز کی گنز جام ہوئیں تو وہ پیچھے ہٹ سکتے تھے، جان بچا سکتے تھے، مگر انہوں نے دشمن کی توجہ اپنی طرف مبذول کر کے اپنے ساتھیوں کو نکلنے کا موقع دیا۔ ایک کمانڈر نے اپنی زندگی کو ڈھال بنا کر اپنے دستے کو بچایا—یہی اصل قیادت ہے، یہی وہ درجہ ہے جو کسی افسر کو تاریخ میں امر کر دیتا ہے- رفیقی شہید کی پرواز وہاں ختم ہوئی جہاں پاکستان کی سرحد ختم ہوتی ہے، مگر ان کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں قومی غیرت کا باب کھلتا ہے۔ وہ واپس نہیں آئے، لیکن ان کا نام واپس لوٹنے والے ہر شاہین کے دل میں ایک معیار بن کر بیٹھ گیا۔ آج جب کسی نوجوان پائلٹ کو “بلیو یونیفارم” پہنائی جاتی ہے تو اس کے شانوں پر صرف رینک نہیں، رفیقی جیسے شہداء کی ذمہ داری بھی رکھی جاتی ہے۔ 1965 کی فضائی جنگ کا ایک دوسرا اہم باب ایئر کموڈور محمد محمود عالم کے نام ہے، جو فضاء میں برقی ردِ عمل، فولادی اعصاب اور عملی مہارت کا استعارہ بن گئے۔ ان کے ایف-86 سیبر طیارے کی کاک پٹ سے تاریخ نے وہ منظر دیکھا جو آج تک جنگی ہوا بازی کی مثالوں میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت پر مشتمل ایک شدید فضائی معرکے میں پانچ دشمن جہازوں کو مار گرانا محض تکنیکی کمال نہیں تھا، اعصاب کی برتری، مشاہدے کی تیزی اور فیصلہ سازی کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ دشمن کے لیے یہ جھٹکا تھا، پاکستان کے لیے یقین—کہ آسمان پر جو ہنر، ہمت اور حوصلہ موجود ہے، وہ کسی بڑے سے بڑے خطرے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
مگر 1965 کی کہانی صرف دو ناموں تک محدود نہیں۔ “غازی” وہ ہیں جو واپس آئے، مگر کتنے ہی ان میں ایسے تھے جو خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھا کر گھر لوٹے، جن کے کارناموں کا ذکر کہیں چھوٹے کالم میں آیا، کہیں یونٹ کی سطح پر ہوا، مگر جن کی پیشہ ورانہ مہارت نے روزانہ کی بنیاد پر جنگ کا نقشہ بدلنے میں حصہ ڈالا۔ سیسل چوہدری، سجاد حیدر، امتیاز بھٹی جیسے کئی نام اس فضائی داستان کو مزید گہرائی دیتے ہیں—وہ ہر مشن میں صرف اہداف کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ پاکستان کے مستقبل کو دیکھتے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ، وہ ہزاروں گمنام ہاتھ جنہوں نے 1965 میں ہر فلائٹ سے پہلے جہاز تیار کیے، ہر لانچ سے پہلے ایندھن بھرا، ہر رات دشمن کے حملے کے خدشے میں ایئر بیس کے اینٹی ایئرکرافٹ گنز پر ڈیوٹی دی، وہ بھی اسی داستان کا حصہ ہیں۔ گراؤنڈ کریو جو وقت کے خلاف دوڑ رہے تھے، کنٹرولر جو ریڈار پر آتے جاتے سگنلز سے جنگی نقشہ بنا رہے تھے، میٹ آفس کے اہلکار جو موسم کی ہر تبدیلی کو آپریشنل فیصلے میں تبدیل کر رہے تھے—یہ سب غازی ہیں، اگرچہ دشمن نے انہیں کبھی سامنے نہیں دیکھا، مگر وہ ہر کامیاب مشن کے پردے کے پیچھے موجود تھے۔ شہداء کا مقام ان سب سے بلند ہے، کہ انہوں نے اپنا کل قربان کر کے وطن کے آج کو محفوظ کیا۔ 1965 کی فضائی جنگ میں جان نچھاور کرنے والے ہر شہید نے ایک بات ثابت کی: پاکستان کی خودمختاری کوئی مذاکراتی کاغذ نہیں کہ جسے ضرورت پڑے تو پھاڑ دیا جائے؛ یہ ایک عہد ہے جسے خون سے لکھا گیا ہے۔ خاندانوں کے صحن میں لگے وہ عکس، ایئر بیس کی میس میں لگی وہ تصویریں، یادگاروں پر نقش وہ نام، سب گواہی دیتے ہیں کہ پاک فضائیہ کی تاریخ سطروں سے نہیں، لہو سے لکھی گئی ہے۔
اس جنگ نے ایک دیرپا عسکری حقیقت بھی واضح کی: فضائی قوت کی اصل طاقت صرف جہازوں کی فہرست میں نہیں بلکہ تربیت، منصوبہ بندی، قیادت اور جذبۂِ ایثار میں ہوتی ہے۔ 1965 میں پاک فضائیہ نے عددی لحاظ سے بڑے دشمن کا سامنا کم وسائل کے ساتھ کیا، مگر اسے ہر محاذ پر یہ احساس دلایا کہ آسمان پر پاک شاہین موجود ہیں اور جب شاہین موجود ہوں تو رکاوٹیں بڑی نہیں رہتیں، دشمن بڑا نہیں رہتا، خطرہ ناقابلِ عبور نہیں رہتا۔
آج، چھ دہائیوں بعد، جب 06 ستمبر کو “یومِ دفاعِ پاکستان” منایا جاتا ہے، تو یہ دن صرف ماضی کی یاد نہیں، مستقبل کا عہد بھی ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ سر فراز رفیقی جیسے شہداء اور ایم ایم عالم جیسے غازی محض تاریخ کے کردار نہیں، پاکستان کے مستقبل کے ضامن ہیں۔ ہر نئی نسل کا پائلٹ جب کاک پٹ میں بیٹھ کر آسمان کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ 1965 کی وہ خاموش آوازیں بھی پرواز کرتی ہیں جو کہتی ہیں: “جب جب پاکستان پکارے گا، اس کے شاہین لبیک کہیں گے۔”







