نیویارک(شہرنامہ نیوز) امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈلائن پر مذاکرت ہوئے۔امریک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وٹکوف اور جیرڈ نے ایرانی حکام کے ساتھ بہت تعمیری ملاقات کی، ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ موجود ہے، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران 51سال تک مشرق وسطیٰ کا بدمعاش رہا لیکن اب نہیں ہے، ضرورت پڑی تو ایران کی پہاڑی پر موجود تنصیب پر بمباری کریں گے، اگر ہمیں جوہری پہاڑی سرگرمیاں نظر آئیں تو ہم اس کو نشانہ بنا سکتے ہیں، یقین ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔دوسری جانب اسٹیو وٹکوف نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی وفد سے ثالثوں کے ذریعے تفصیلی بات چیت ہوئی، ثالثوں نےدن بھر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان رابطے اور پیغام رسانی جاری رکھی، مذاکرات کا ایک دور مکمل، نتیجہ تعمیری اور امید افزا ہونے کی توقع ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی امریکا سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں سے بات چیت ثالث کے ذریعے ہوئی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے ایران کی شرائط امریکا تک پہنچا دی گئیں۔ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ناکہ بندی اور معاشی جنگ کا خاتمہ مطالبات میں شامل ہے۔ تہران نے امریکا کے سامنے ہر سطح پر امریکی جارحیت کے خاتمے اور ایرانی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے موقع پر اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی سخت شرائط امریکی نمائندے کے سامنے رکھ دیں۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط وٹکوف سے ملاقات قبول کرنے کی وجہ بنیں، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنا ہوگی۔ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور تمام مزاحمتی محاذوں پر جنگ ختم کرنا شرائط میں شامل ہے۔
نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، امریکی و ایرانی حکام کی ملاقات
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







