روسی فوج کا یوکرین کی دفاعی و توانائی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

ماسکو(شہرنامہ نیوز) روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج نے رات کے دوران یوکرین کی دفاعی صنعتی تنصیبات، توانائی کے مراکز، لاجسٹک ہبز اور فوجی استعمال میں آنے والے بحری جہازوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔روسی وزارت دفاع کے مطابق حملوں میں کیف میں ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہونے والے سامان کے گودام، کیف ریجن کے علاقے وِشنیووئے میں ڈرونز کے پرزے تیار کرنے والے صنعتی ادارے ’’ٹوکانس ایل ایل سی‘‘ اور اودیسا میں یوکرینی فوج کے لیے فوجی و دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ اور تقسیم کرنے والے تین لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ اودیسا ریجن کے علاقے میرنوئے میں ڈرونز کے پرزوں کے گودام پر بھی حملہ کیا گیا، جبکہ اودیسا بندرگاہ کی جانب فوجی سامان لے جانے والے ایک خشک مال بردار بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں کے نتیجے میں کیف اور مختلف علاقوں میں متعدد شہری و بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ کیف کی فوجی انتظامیہ نے گولوسیفسکی ضلع میں ایک گودام کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی، جبکہ میئر وٹالی کلیچکو کے مطابق علاقے میں ایک پٹرول اسٹیشن متاثر ہوا اور گوداموں میں آگ بھڑک اٹھی۔کیف کے دارنیتسکی ضلع میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ایک تنصیب کو نقصان پہنچنے اور ایک پٹرول اسٹیشن میں آگ لگنے کی بھی اطلاع دی گئی۔کیف ریجن کے سربراہ تیمور تکاچینکو کے مطابق بوچا ضلع میں بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات، گوداموں اور پیداواری مراکز کو نقصان پہنچا، جبکہ ویشگورود ضلع میں بنیادی ڈھانچے کی ایک اور تنصیب متاثر ہوئی۔ فاستوف ضلع میں بھی ایک پیداواری مرکز کو نقصان پہنچا۔یوکرینی خبر رساں ادارے ’’انسائیڈر‘‘ نے کیف کے ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب دھماکے اور دھوئیں کی اطلاع دی، جبکہ پولتاوا ریجن کے سربراہ وٹالی دیاکوونیچ نے پولتاوا ضلع میں ایک صنعتی ادارے کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی۔خارکوف ریجن کے شہر ایزیوم میں بھی بجلی کی فراہمی جزوی طور پر معطل ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ یوکرین کی ریاستی ہنگامی سروس کے مطابق جنوبی اودیسا ریجن میں بڑے پیمانے پر آگ لگی، جس پر قابو پانے کے لیے ہمسایہ نیکولائیف ریجن سے بھی فائر فائٹرز طلب کیے گئے۔اودیسا ریجن کے سربراہ اولیگ کیپر کے مطابق حملے میں متعدد گوداموں کو نقصان پہنچا۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں