مذاکرات کی بحالی کی درخواست، ایسا کرناہماری فطرت میں نہیں: اسماعیل بقائی

تہران (شہرنامہ نیوز)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث ہمیں امریکا کی جانب سے پیغامات پہنچاتے ہیں، پاکستان اور قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکا سے بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ نہ بھولیں کہ اس سے پہلے جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، ہمیں اس دوران دو بار امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا، مذاکرات کے دوران ایران کی سفارت کاری تین بار سبوتاژ ہوئی۔اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر امریکہ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’اس مفاہمت کی یادداشت میں کوئی ابہام نہیں ہے۔فی الحال واشنگٹن کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران امریکا کو جنگ کے اختتام کا تعین نہیں کرنے دے گا، امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی، ایسا کرنا ہماری فطرت میں نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان بات چیت مثبت رہی ہے، آبنائے ہرمز میں صورتحال تبدیل نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکا کی جنگ میں ملوث رہے ہیں، اپنے ملک کا دفاع کریں گے اور قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق سفارتی راستہ اختیارکریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا ایک خطرناک اقدام تھا جس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کو جنگ اور امن کے وقت اور دورانیے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم اپنے مفادات کے مطابق اپنے ملک کا دفاع جاری رکھیں گے۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں