پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کے طوفان کا خدشہ: راجہ جاوید اختر

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ہمیشہ سے ہی عوامی بحث اور معاشی استحکام کا مرکز رہی ہیں۔ بجٹ 2026-27 کے نفاذ کے بعد اب عوام کی نظریں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے آئندہ جائزے پر لگی ہوئی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ اتھل پتھل اور ملک کے اندر لیوی ٹیکسز میں ممکنہ تبدیلیوں کے باعث یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا ردوبدل کرنے جا رہی ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کے ملکی معیشت اور عام آدمی کی جیب پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور پاکستانی روپے کی قدرپاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس کا فائدہ عام طور پر عوام تک پہنچنا چاہیے تھا۔ تاہم، دوسری جانب حکومت پر آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کا شدید دباؤ ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام کو منتقل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر مستحکم نہ رہی تو عالمی مارکیٹ کی کمی کا اثر ختم ہو جائے گا۔حالیہ بجٹ میں حکومت نے پٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر 70 سے 80 روپے فی لیٹر تک کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے پاس اب یہ اختیار ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح کو بڑھا سکے۔ ذرائع کے مطابق، مالیاتی خسارے کو پورا کرنے اور رونیو بڑھانے کے لیے حکومت آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پٹرول اور ڈیزل پر لیوی ٹیکس میں 5 سے 8 روپے تک کا اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتیں نیچے نہیں آئیں گی، بلکہ ان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ صنعتی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD)، جو کہ ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کی قیمت میں اضافے کا صاف مطلب ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان ہے۔ اگر ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو اشیائے خورونوش کی نقل و حمل (Transportation) مہنگی ہو جائے گی، جس سے سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی قیمتیں خود بخود اوپر چلی جائیں گی۔ دوسری طرف، پٹرول کی قیمت میں ممکنہ اضافے سے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں والے مڈل کلاس طبقے کی ماہانہ لائف اسٹائل اور بجٹ بری طرح متاثر ہوگا۔عوام اور کاروباری طبقے کی تشویش ملک بھر کے تاجروں اور عام شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ کے بعد عوام پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ برداشت سے باہر ہوگا۔ اوورسیز پاکستانی، جو اپنے گھر والوں کو ماہانہ خرچ بھیجتے ہیں، وہ بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ان کے خاندانوں کے اخراجات دوگنے ہو جاتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ حکومت کو فوری ریلیف دینے کے لیے اپنے ترقیاتی اخراجات کم کرنے چاہئیں اور پٹرول پر ٹیکس کا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے-

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں