اعلیٰ تعلیم کسی بھی ریاست کے علمی، معاشی اور سماجی مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ جامعات محض ڈگریاں تقسیم کرنے والے ادارے نہیں بلکہ تحقیق، اختراع، تنقیدی سوچ اور قومی ترقی کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے جامعات کے لیے شفاف داخلہ، مالی نظم و نسق، تحقیق کے معیار اور طلبہ کے حقوق سے متعلق واضح پالیسی فریم ورک مرتب کر رکھا ہے۔ لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو متعدد طلبہ کے تجربات اس مثالی تصور سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ہر سال ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی امید لیے جامعات کا رخ کرتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے طلبہ کا تعلیمی سفر کلاس روم سے پہلے ہی انتظامی پیچیدگیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ داخلے کے عمل میں غیر واضح معلومات، بار بار بدلتی ہدایات، مختلف دفاتر کے چکر، دستاویزات کی غیر ضروری تصدیق اور تاخیر جیسے مسائل طلبہ کے لیے ذہنی، مالی اور نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔ خاص طور پر وہ طلبہ جو دور دراز علاقوں سے آتے ہیں، ان کے لیے ہر اضافی چکر اضافی اخراجات اور وقت کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔داخلہ مکمل ہونے کے بعد بھی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے تحقیق اور تھیسس کا مرحلہ ان کے علمی سفر کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے، جہاں معیار، رہنمائی اور تحقیقاتی دیانت داری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تاہم مختلف جامعات کے طلبہ سے ہونے والی گفتگو اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات انتظامی عمل غیر ضروری طور پر طویل ہو جاتا ہے۔ زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بعض طلبہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ انہیں یونیورسٹی فیسوں کے علاوہ مختلف مراحل پر ایسی ادائیگیوں کا عندیہ دیا جاتا ہے جن کا ذکر نہ تو یونیورسٹی کے منظور شدہ فیس شیڈول میں ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے لیے کوئی باضابطہ بینک چالان یا سرکاری رسید فراہم کی جاتی ہے۔ اگرچہ ایسے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، لیکن ان شکایات کا بار بار سامنے آنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ متعلقہ ادارے اس حوالے سے شفاف وضاحت کریں۔
HEC کے ضابطوں کے مطابق کسی بھی جامعہ میں وصول کی جانے والی تمام فیسیں متعلقہ قانونی فورمز سے منظور شدہ، تحریری طور پر جاری اور ریکارڈ کا حصہ ہونی چاہئیں۔ ہر مالی لین دین کی دستاویزی حیثیت، بینکنگ چینل اور باقاعدہ رسید بنیادی تقاضا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی بھی سطح پر غیر مجاز یا غیر اعلانیہ ادائیگیوں کی شکایات سامنے آتی ہیں تو وہ نہ صرف انتظامی شفافیت بلکہ ادارے کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ مالی طور پر کمزور طلبہ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ ٹیوشن فیس، رہائش، ٹرانسپورٹ، کتب اور تحقیق کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، دوسری طرف اگر انہیں غیر متوقع مالی مطالبات یا غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے تو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ کئی طلبہ کے لیے چند ماہ کی تاخیر بھی سرکاری ملازمت، اسکالرشپ یا بیرونِ ملک تعلیم کے مواقع ضائع ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام جامعات میں ڈیجیٹل فیس مینجمنٹ سسٹم، آن لائن شکایتی پورٹل، مقررہ ٹائم لائن، شفاف تھیسس ٹریکنگ سسٹم، داخلی آڈٹ اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد محتسب (Ombudsperson)کو مؤثر بنایا جائے۔ ہر ادائیگی صرف بینک یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول کی جائے، ہر مرحلے کی مدت پہلے سے مقرر ہو اور ہر طالب علم کو اپنی درخواست یا تھیسس کی پیش رفت آن لائن دیکھنے کی سہولت حاصل ہو۔جامعات علم کے قلعے ہوتی ہیں، بازار نہیں۔ اگر تحقیق کے مراکز میں شفافیت، احتساب اور میرٹ کمزور پڑ جائیں تو صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ پورا تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے صرف عالمی درجہ بندیوں کی دوڑ تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کے اعتماد، انتظامی شفافیت اور اخلاقی معیار کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ کیونکہ ایک مضبوط تعلیمی نظام صرف جدید عمارتوں سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت اور جوابدہی سے تشکیل پاتا ہے۔
تعلیم یا تجارت؟ داخلے سےڈگری تک طلبہ کا کٹھن سفر : ڈاکٹر شیراز علی













