اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے منصب کیلئے نامزد کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کیا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر انتخابات میں ایل اے 29 مظفرآباد تھری سے ن لیگ کے امیدوار تھے۔ تاہم وہ اپنی سیٹ ہار گئے تھے جس کے بعد انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر اسمبلی کا حصہ بنایا گیا
فیصلے کے بعد ذرائع کا کہنا تھا کہ اپنی سیٹ ہارنے کے بعد مخصوص نشست پر ممبر اسمبلی منتخب ہونیوالے بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر سینیئر پارٹی رہنما ناخوش ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ افتخار گیلانی کے نام پر تنازعے کی وجہ سے جمعرات کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے ہونے والا اسمبلی اجلاس بھی ایک روز بعد یعنی جمعہ کو بلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں آج اسمبلی اجلاس کا ترمیمی نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے جس سے وزیر اعظم کی نامزدگی پر ن لیگ میں جاری اختلافات کی افواہوں کو تقویت ملی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر راجہ فاروق حیدر، شاہ غلام قادر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر اہم رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر متفق نہ ہوئے تو 28 اگست کو بھی انتخاب کا انعقاد مشکل ہوسکتا ہے اور اسمبلی اجلاس مزید ملتوی کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی شامل ہیں، تاہم شاہ غلام قادر کو موزوں ترین امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔شاہ غلام قادر کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ افتخار گیلانی کی نامزدگی پر دلبرداشتہ ہیں۔ اس بات کا اشارہ ان کی پارٹی اجلاس کے بعد ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بھی ملتا ہے۔انہوں نے “نواز شریف کے نعرہ ‘ووٹ کو عزت دو’ کو یقینی” بنانے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ “آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے عزت و وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرونگا ۔” ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ن لیگ آزاد کشمیر کے متعدد دیگر سینیئر رہنما بھی بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر شاہ غلام قادر کی طرح ناخوش ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی اس ممکنہ فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے کہ عام انتخابات میں اپنی نشست ہارنے کا واضح مطلب ہے کہ عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں، اور ایک مسترد شدہ امیدوار کو پہلے مخصوص نشست پر اسمبلی میں لانا اور پھر انہی کو وزیراعظم بنانے کی کوشش کرنا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ دوسری جانب حکومت سازی کے عمل سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں ریاست کی تینوں ڈویژنز کو نمائندگی دینے پر مشاورت جاری ہے۔ میرپور ڈویژن سے اسپیکر چن لیا گیا، وزیراعظم مظفرآباد ڈویژن سے، جبکہ صدر کا انتخاب پونچھ ڈویژن سے کیے جانے کا امکان ہے جہاں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر تاحال الیکشن نہیں ہو سکے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے تجربہ کار رہنما ہیں۔ وہ 2011 اور 2016 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 کے انتخابات کے بعد انہیں آزاد کشمیر کابینہ میں وزیر تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔2026 کے حالیہ عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے ایل اے 29 مظفرآباد تھری کی نشست سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، تاہم وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی سے شکست کھا گئے تھے۔ بعد ازاں مخصوص نشستوں کے انتخابات میں انہیں ٹیکنوکریٹ نشست پر مسلم لیگ (ن) کا امیدوار بنایا گیا۔ 24 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی کو 12 ووٹ ملے۔۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کی نامزدگی، شاہ غلام قادر سمیت سینئر رہنما ناخوش







