اسلام آباد (شہرنامہ نیوز)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) اور عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی جانب سے رکن ممالک میں حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد سے متعلق جاری کردہ تازہ ترین تخیموں کے مطابق، گزشتہ سال 90 فیصد (تقریباً 11 کروڑ 60 لاکھ) نوزائیدہ بچوں کو خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے بچاؤ کی ویکسین(ڈی ٹی پی) کی کم از کم ایک خوراک دی گئی۔ 85 فیصد یا تقریباً 11 کروڑ بچے ایسے تھے جنہیں ان کی تینوں خوراکیں میسر آئیں۔ جنگوں، غلط و گمراہ کن معلومات اور دیگر مسائل کے باوجود حفاظتی ٹیکے (ویکسین) لگوانے والے بچوں کی شرح میں قدرے اضافہ ہوا ہے تاہم عالمی سطح پر ان کی تعداد اب بھی 2019 کے مقابلے میں ایک فیصد کم اور 2009 سے اب تک ایک محدود دائرے میں برقرار ہے۔ گزشتہ سال ایک کروڑ 35 لاکھ بچوں کو زندگی کے پہلے سال دوران کوئی بھی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگایا گیا۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً سات لاکھ 50 ہزار کم ہے لیکن اب ایسے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں ابتدائی حفاظتی ٹیکے تو لگائے جاتے ہیں لیکن ان کا کورس مکمل نہیں ہو پاتا۔ ان میں زیادہ تر بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں ملکی سطح پر حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگراموں کو گاوی ویکسین اتحاد کی معاونت حاصل ہے۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران نمایاں کمی کے بعد حکومتوں اور طبی کارکنوں کی کوششوں سے عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کی شرح دوبارہ بہتر ہوئی ہے، لیکن تنازعات، نقل مکانی اور غربت کے باعث لاکھوں کمزور بچے اب بھی ویکسین سے محروم ہیں۔ حفاظتی ٹیکے: علاقائی صورتحال 95 ممالک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 100 ممالک نے 2019 سے اب تک ‘ڈی ٹی پی’ ویکسین کی تین خوراکوں کی کم از کم 90 فیصد کوریج برقرار رکھی ہے، تاہم اس فہرست میں نئے ممالک کا اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو ممالک 2019 میں 90 فیصد ہدف سے نیچے تھے ان میں سے 30 نے گزشتہ چھ برس میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی جبکہ 65 ممالک یا تو جمود کا شکار ہیں یا مزید پیچھے چلے گئے ہیں۔ ان میں نازک حالات اور تنازعات سے متاثرہ 13 ممالک بھی شامل ہیں۔ امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطوں نے حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے 2019 کے مقابلے میں نہ صرف اپنی سابقہ سطح بحال کی ہے بلکہ مزید بہتری بھی دکھائی ہے۔ اس معاملے میں جنوب مشرقی ایشیا اب سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والا خطہ بن چکا ہے۔ ‘ڈبلیو ایچ او’ کے افریقی، مشرقی بحیرہ روم اور یورپی خطوں میں گزشتہ سال کچھ بہتری آئی، مگر ان کی کوریج اب بھی کووڈ وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔ مغربی الکاہل خطے میں مزید کمی دیکھی گئی جو 2019 کی سطح سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
گمراہ کن معلومات کے باوجود بچوں میں ویکسین کی شرح میں اضافہ،ڈبلیو ایچ او
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







