اسلام آباد (شہرنامہ نیوز)پمز اسپتال میں انجینئرنگ اور تکنیکی عملے کی کمی فوری طور پر دُور کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ، پمز انتظامیہ اور سی ڈی اے کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں آتشزدگی کے بعد HVAC نظام کی بحالی اور تکنیکی امور کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔ سی ڈی اے افسران نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آتشزدگی کے باعث متاثرہ عمارت میں HVAC سے متعلق کام میں تعطل آیا ہے۔ سانحے کی تحقیقات کے باعث متاثرہ عمارت عارضی طور پر بند ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سیکریٹری صحت کو متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ متاثرہ عمارت کو دوبارہ کام کے لیے ہینڈ اوور کرنے کی ٹائم لائن طے کی جائے، تاکہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر کے HVAC نظام کی بحالی کا کام بلا تاخیر دوبارہ شروع کیا جاسکے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے سے سرپلس پول میں موجود موزوں انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ موزوں انجینئرز اور تکنیکی عملے کی پمز میں تعیناتی کے لیے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھا جارہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سرپلس پول میں موجود موزوں انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور متعلقہ عملے کو پمز اسپتال میں تعینات کیا جائے۔ اضافی تکنیکی افرادی قوت کی تعیناتی سے پمز اسپتال میں اسٹاف کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں اور نومولود بچوں کو محفوظ اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
پمز میں انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی فوری تعیناتی کا فیصلہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







