پمز سانحہ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 10 افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی، رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین اور کارروائی کی سفارش کی گئی، وزیراعظم نے اس حوالے سے اجلاس طلب کر لیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحہ کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کر لیا، کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات اجلاس میں پیش کی جائیں گی، وزیراعظم اہم فیصلے کریں گے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت دس ٹاپ کے افسران و متعلقہ عملے کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اسپتال کی باقاعدہ نگرانی اور مؤثر انتظام کے لیے گورننگ بورڈ ناگزیر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 سے زائد بچے ہونے کی بات کو غلط قرار دیا گیا ہے، آگ لگنے کے بعد دھماکے کی وجہ آکسیجن کو بتایا گیا، تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق نرسری میں 15 بچوں سے زیادہ مریض بچوں کی گنجائش نہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر موجود ہے، پمز کا جو متعلقہ عملہ غیر حاضر تھا ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں جبکہ فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا بھی ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، رپورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کو کارروائی کرنے کی فوری سفارش کی گئی ہے۔دوسری جانب وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا۔وزارت صحت نے ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی ایسی خامیاں، جو جان و مال کو فوری خطرے میں ڈال سکتی ہیں، ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ تمام اسپتالوں کو آڈٹ کے آغاز، متعلقہ فائر سیفٹی کمپنی کے نام اور آڈٹ مکمل ہونے کی متوقع تاریخ سے وزارت صحت کو فوری آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری اور نجی صحت اداروں میں فائر سیفٹی آڈٹ شروع اور اس کی تصدیق کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آڈٹ کی تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ وزارت صحت کو پیش کی جائے گی۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں