جینز کا رنگ نیلا ہی کیوں ہوتا ہے؟ وجہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) جب بھی آپ جینز کی پینٹ خریدنے جاتے ہیں تو زیادہ تر جو رنگ سامنے آتا ہے وہ نیلا ہوتا ہے۔یقیناً مختلف رنگوں میں بھی جینز دستیاب ہیں مگر نیلا رنگ اب بھی سب سے زیادہ مقبول ہے جبکہ ماضی میں تو کسی اور رنگ کی جینز دستیاب ہی نہیں ہوتی تھی۔تو اس کی وجہ کیا ہے یعنی آخر جینز نیلے رنگ کی ہی کیوں ہوتی ہے؟ایسا اس لیے نہیں کیونکہ نیلا رنگ لگ بھگ ہر رنگ کی شرٹ کے ساتھ میچ ہو جاتا ہے (حالانکہ کسی حد تک ایسا ہوتا ہے) بلکہ اس کی وجہ اس کپڑے کو رنگنے والے رنگ یا ڈائی میں چھپا ہے۔ماہرین کے مطابق جینز کے لیے استعمال ہونے والی ڈائی بہت خاص ہوتی ہے اور کپڑوں کی کسی اور قسم کی ڈائی کی طرح کام نہیں کرتی۔یعنی جینز کے نیلے رنگ کی مقبولیت کی وجہ فیشن نہیں بلکہ اس کی تیاری کے تاریخی حقائق میں چھپا ہے۔ اس پینٹ کے لیے ڈینم نامی کپڑے کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس نام کے ساتھ نیلا رنگ ہی ذہن میں آتا ہے۔تو اس کی وجہ 19 ویں صدی میں چھپی ہوئی ہے جب لیوی اسٹروس اور جیکب ڈیوس نے اپنے ڈینم ٹراؤزرز کو 1873 میں پیٹنٹ کرایا۔انہوں نے ایک کاٹن کپڑے کو گہرے نیلے رنگ میں ڈائی کیا جو جینز کا سمبل بن گیا۔ماہرین کے مطابق بیشتر ڈائیز کپڑے کے اندر داخل ہو جاتی ہیں جبکہ یہ نیلا رنگ دھاگے کے اردگرد پھیل جاتا ہے جو کہ اڑ بھی سکتا ہے، یعنی وہ اثر جو وقت کے ساتھ آپ جینز میں دیکھتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس ڈائی کی منفرد کوٹنگ خصوصیات نے جینز کو اس کا مخصوص نیلا رنگ دیا۔اس کے ساتھ ساتھ نیلے رنگ کے استعمال کی وجہ اس کا عملی استعمال بھی ہے۔19 ویں صدی میں اس رنگ کی ڈائی اتنی گہری ہوتی تھی کہ یہ داغ دھبوں اور گرد وغیرہ کو چھپا لیتی تھی۔عام طور پر مزدور جینز کو پہنتے تھے اور وہ کپڑوں کو کم بدلتے تھے، جس کے باعث نیلے رنگ کی جینز گندی نظر نہیں آتی تھی اور مشقت کے کام کے لیے قدرتی انتخاب محسوس ہوتی تھی۔اس کپڑے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جینز کو اکثر دھونے سے وہ نرم ہو جاتی ہے اور بتدریج مختلف جگہوں سے پھٹ جاتی ہے۔اسی نرمی نے جینز کو مزدوروں کا اولین انتخاب بنایا۔ویسے ڈینم کپڑے کا قدرتی رنگ کسی حد تک خاکستری ہوتا ہے جو ڈائی کے بعد گہرے نیلے رنگ میں بدل جاتا ہے۔جینز کے دیگر رنگوں کے لیے سلفر، آئرن اور دیگر قدرتی عناصر کو نیلے رنگ میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دیگر رنگ صارفین کو دستیاب ہوسکیں۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں