ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا خطرناک؟

اسلام آباد (شہرنامہ نیوز) بیشتر افراد فونز کے لیے اسکرین پروٹیکٹر کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اسکرین کو زیادہ تحفظ مل سکے۔مارکیٹ میں مختلف طرح کے اسکرین پروٹیکٹر دستیاب ہیں، کچھ میں سافٹ فلم کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کچھ گلاس پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر فون کچھ بلندی سے فرش پر گر جائے یا جیب میں کسی نوکیلی چیز ٹکرا جائے تو اسکرین پروٹیکٹر متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ اسکرین پروٹیکٹر کریک ہو جاتا ہے۔ مگر کیا ایسے اسکرین پروٹیکٹر کو استعمال کرنا ٹھیک ہوتا ہے جو کافی زیادہ متاثر نظر آتا ہے؟مثال کے طور پر ایسے پروٹیکٹر پر مبنی فون کو استعمال کرنے پر انگلیاں دھار سے کٹ سکتی ہیں۔ اگر اسکرین پروٹیکٹر کو زیادہ نقصان پہنچ چکا ہو تو اسکرین کا وہ حصہ تحفظ سے محروم ہو جاتا ہے، جس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امکان ہوتا ہے کہ اسکرین کے مخصوص حصوں کی ٹچ اسکرین صحیح سے کام نہ کرے۔ تو ماہرین کے مطابق اگر اسکرین پروٹیکٹر کو نقصان پہنچ چکا ہے تو اسے بدل دینا بہتر ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے نکالنا مشکل ہوسکتا ہے اور اسکرین پر بھی خراشیں بن سکتی ہیں، خاص طور پر کونوں میں۔جب آپ اسکرین پروٹیکٹر بدلنے کا فیصلہ کریں تو اسے بہت آرام سے اتاریں تاکہ انجری یا نیچے موجود اسکرین کو نقصان سے بچا سکیں۔اس کے بعد فون بند کریں اور پھر کیس نکالیں جس کے بعد پتلے پلاسٹک کارڈ سے پروٹیکٹر کے کسی کونے کو اٹھالیں۔جب پروٹیکٹر اتار لیں تو فون کی اسکرین کو کسی مائیکرو فائبر کپڑے سے صاف کرلیں۔

خبر پر اپنی رائے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں